میری حاجت پر نظر فرمائی اور میری حاجت کو پورا کیا۔‘‘حضرت سیدنا عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ ’’خدا کی قسم! میں نے تمہارے معاملہ میں امیر المؤمنین سے کچھ بھی نہیں کہا، مگر ایک بات ضرور ہے کہ میں نے سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک نابینا شخص حاضر ہوا اور اپنی حاجت ذکر کی تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے یہی دعا تعلیم فرمائی ، خداکی قسم ! ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہ نابینا شخص ہمارے پاس اس حال میں آیا کہ گویا وہ کبھی اندھا ہی نہ تھا۔‘‘ (المعجم الکبیر، ما اسند عثمان بن حنیف، ج۹، ص۳۱، فتاوی رضویہ، ج۲۹، ص۵۵۰ تا ۵۵۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا شمار اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتاہے انہوں نے ایک حاجت مند کو خلافتِ عثمانی کے زمانے میں یہ دعا تعلیم فرمائی، اگر ’’یارسول اللہ، یا محمد‘‘کہنا ناجائز ہوتا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکبھی یہ دعا ارشاد نہ فرماتے۔ بہر حال حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ودیگر اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے جنگ یمامہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےمدد ونصرت کے لیے نعرہ لگایا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی مدد ونصرت فرمائی اور مسیلمہ کذاب کو ذلیل و رسوافرمایااور وہ اپنی ناپاک جھوٹی نبوت کے ساتھ ہی واصل جہنم ہوگیا۔
مسیلمہ کذاب کاقتل
مسیلمہ کے لشکری جب بھاگے تو خود مسیلمہ کذاب بھی بھاگ کھڑا ہوا اور ایک دیوار کے پیچھے جاکر چھپ گیا، لیکن ایک جیدصحابی حضرت سیدنا وحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے دیکھ لیا اور اس زور کا نیزہ مارا کہ اس کے سینے کے آر پار ہوگیااور وہ اپنے بھیانک انجام کو پہنچ گیا۔ (سیرت سید الانبیاء، ص۶۰۹، الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۲۲، تاریخ الخلفاء، ص۵۸)
حضرت سیدنا وحشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکون تھے؟
حضرت سیدنا وحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہی صحابی تھے جنہوں نے جنگ اُحُد میں حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہُ