Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
387 - 691
اس حدیث پاک میں صاف لفظوں میں ’’یا محمد‘‘کہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اگر اس طرح مدد طلب کرنا جائز نہ ہوتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس کو کبھی تعلیم نہ فرماتے۔
بعد حیات مدد طلب کرنا
امام اجل، ابو القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کی کتابمعجم کبیرمیں ہے کہ: ایک حاجت مند اپنی حاجت کے لیے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں آتا جاتا تھا لیکن امیر المؤمنین اس کی طرف التفات نہ فرماتے تھےاور نہ اس کی حاجت پر نظر فرماتے تھے۔اس حاجت مند شخص نے حضرت سیدنا عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اس امر شکایت کی۔ انہوں نے فرمایاکہ: ’’وضو کرکے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھو ، پھر یوں دعا مانگو: اَللّٰهُمَّ  إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي اَتَوَجَّہُ بِكَ إِلَى رَبِّي فَیُقْضَى فِي حَاجَتِي یعنی اے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے سوال کرتاہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں تیرے نبی محمد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلہ سے جو نبی رحمت ہیں اور یارسول اللہ! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں متوجہ ہوتاہوں تاکہ میری حاجت روائی ہو۔پھر اپنی حاجت ذکر کراور شام کے وقت میرے پاس آنا تاکہ میں بھی تیرے ساتھ امیر المؤمنین کے پاس چلوں۔‘‘ وہ حاجت مندچلا گیااور جس طرح حضرت سیدنا عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاتھا ویسا ہی کیا۔ پھر وہ اکیلا ہی امیر المؤمنین حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں حاضر ہوگیا دربان اسے اندر لے گیا۔امیر المؤمنین نے اسے اپنے ساتھ مسند پر بٹھایا اور اس کی حاجت پوچھی، اس شخص نے اپنی حاجت عرض کی تو امیر المؤمنین نے فوراً اس کی حاجت پوری کردی اور ارشاد فرمایا کہ’’ اتنے دنوں کے بعد تم نے اپنی حاجت بیان کی، اب جب بھی تمہیں کوئی حاجت پیش آئے تو ہمارے پاس چلے آیا کرو۔‘‘ وہ شخص امیر المؤمنین کے پاس سے نکل کر حضرت سیدنا عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ملا اور عرض کرنے لگا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو جزائے خیر دے، آپ کی سفارش کی وجہ سے امیر المؤمنین نے