Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
386 - 691
نہ کیوں کر کہوں یَا حَبِیْبِی اَغِثْنِی
اسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مدد کے لیے پکارنا جائز نہ ہوتا تو یقیناً حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ودیگر تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ایسا قطعاً نہ کرتے، حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ذات گرامی تو وہ ہے جن کو دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے’’سیف اللہیعنی اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار کے خطاب سے نوازا، جو ایسے اسلامی لشکر کا سردار ہوجس میں جید صحابۂ کرام ہوں،جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تربیت یافتہ ہوں یقیناًً وہ سردار کسی ناجائز کام کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔بلکہ اسے یقین کامل تھا کہ ’’یَا مُحَمَّدَاہ‘‘کا نعرہ لگانا باعث رحمت وبرکت ہے، کیونکہ حضور پرنور، شافع یوم النشور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود اس کی تعلیم فرمائی۔
حیات طیبہ میں مدد طلب کرنا
حضرت سیدنا عثمان بن حنیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک نابینا کو دعا تعلیم فرمائی کہ بعدنماز یوں کہے: ’’اَللّٰهُمَّ  اِنِّي اَسْأَلُكَ وَاَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِيَ اَللّٰهُمَّ  فَشَفِّعْهُ فِيَّ یعنی اے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے سوال کرتاہوں اور تیری طرف توجہ کرتاہوں تیرے نبی محمد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلہ سے جو نبی رحمت ہیں اور یارسول اللہ! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں متوجہ ہوتاہوں کہ میری حاجت روائی ہو، اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ!ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔ ‘‘   (سنن الترمذی، کتاب الدعوات عن رسول اللہ، فی دعاء الضیف، الحدیث: ۳۵۸۹، ج۵،  ص۳۳۶، سنن ابن ماجۃ، کتاب الصلوۃ، باب ما جاء فی صلاۃ الحاجۃ، الحدیث: ۱۳۸۵، ج۲، ص۱۵۷)