ہوگیا کہ بنوحنیفہ قبیلے والے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک مسیلمہ کو قتل نہ کیا جائے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بذات خود میدان میں تشریف لائے اور مقابلے کے لیے کفار کے شہسواروں کو طلب کیا اور مسلمانوں کے شعار یعنی عادت کے مطابق ’’یَامُحَمَّدَاہ‘‘ نعرہ لگایا اوراس وقت جنگ میں مسلمانوں کا شعار یہ تھا کہ وہ مشکل وقت میں باآواز بلندیہ نعرہ لگایا کرتے تھے ’’یَامُحَمَّدَاہ‘‘یعنی یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہماری مدد فرمائیے۔اسی طرح حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی نعرہ لگایااورپھر دشمنوں کی طرف سے جو بھی مقابلے پرآیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی گردن اڑادی ۔بالآخر مشرکین کو شکست ہوئی اوروہ سارے بھاگ کھڑے ہوئے۔مسلمانوں کی ایک جماعت نے ان کا تعاقب کیااور بہت سوں کو واصل جہنم کیا اور بہت سوں کو گرفتار کرکے قیدی بنالیا نیزکثیر مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔یہ جنگ یمامہ ۱۱سن ہجری میں لڑی گئی۔
(سیرت سید الانبیاء، ص۵۷۵، الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۲۱)
صحابۂ کرام کا عقیدہ استمداد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس جنگ میں حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسمیت تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مشکل گھڑی میں حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد مدینہ منورہ سےبہت دور ’’یَا مُحَمَّدَاہ‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں ، یعنی حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضور نبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد دنیا کے کسی بھی کونے میں تم پر مصیبت آپڑے تو رسول کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پکارو۔اعلی حضرت، امام اہلسنت، مجدددین وملت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اسی عقیدہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
فریاد امتی جو کرے حال زار میں
ممکن نہیں کہ خیر بشر کو خبر نہ ہو