Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
384 - 691
 وقت مرجاتا، اگر کسی شخص کی آنکھوں کی روشنی کے لیے دعا کرتا تو وہ بالکل نابینا ہوجاتا، اگر کنویں میں پانی کی کثرت کے لیے تھوک ڈالتا تو پانی غائب ہوجاتا، کسی آنکھوں والے کی آنکھ میں تھوکتا تو وہ اندھا ہوجاتا، کسی بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرتا تو اس کا دودھ ختم ہوجاتا اور وہ تھن سوکھ جاتا۔ کسی بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتا تو وہ بالکل گنجا ہوجاتا۔ ایک دفعہ ایک شخص کے دو بیٹوں کے لیے برکت کی دعا کی جب وہ اپنے گھر آیا تو اسے معلوم ہوا کہ ایک کنویں میں گر گیا ہے اور دوسرے کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے۔بہر حال اس ملعون کے ایسے کرتوتوں کے باوجود کئی لوگ اس کی اتباع میں لگ گئے اور اس سے بیزار نہ ہوئے چونکہ جاہلوں کی اس جماعت میں غرض کے بندے تھے اور دنیوی اغراض کے ماتحت اس کے پیچھے لگ گئے۔ (سیرت سید الانبیاء، ص۵۷۵، مدارج النبوت، ج۲، ص۴۰۷)
جنگ یمامہ اور اس کا ہوش ربا منظر
امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے روانہ فرمایاتھا اور پھر حضرت سیدنا شرحبیل بن حسنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوان کی مدد کے لیے بھیجا لیکن ان دونوں کے آگے اس نے ہتھیار نہ ڈالے۔ کیونکہ حضور اکرم نور مجسم، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد مسیلمہ کذاب کا کاروبار چمک اٹھا تھااور تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد اس کے گرد جمع ہوگئے تھے، حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل اور حضرت سیدنا شرحبیل بن حسنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے بھی اس کی خوب جنگ ہوئی جس کے مقابلے میں اس کے کئی لوگ مارے گئے ، اتنے میں ان دونوں صحابہ کی مدد کے لیے حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی آپہنچے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لشکر کی تعداد چوبیس ہزار تھی اور مسیلمہ کذاب کے پاس اس وقت چالیس ہزار فوج تھی، فریقین بے جگری سے لڑےاور جنگ کا نقشہ کئی بار تبدیل ہوا، کبھی حالات مسلمانوں کے حق میں ہوجاتے اور کبھی کفار کے۔’’ثُمَّ بَرَزَ خَالِدٌ وَدَعَا اِلَی الۡبَرَّاز وَنَادَی بِشِعَارِھِمۡ وَکَانَ شِعَارُھُم یَا مُحَمَّدَاہ، فَلَم یَبْرُزْ اِلَیْہِ اَحَدٌ اِلَّا قَتَلَہُ یعنی جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یقین