نے بعد میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا:
’’مِنْ مُسَيْلَمَةِ رَسُوْلِ اللہِ اِ لٰى مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللہِ سَلَامٌ عَلَیْکَ أَمَّا بَعْدُ! فَاِنِّیْ قَدْ اَشْرَکْتُ فِی الْاَمْرِ مَعَکَ، وَاِنَّ لَنَا نِصْفَ الْاَرْضِ وَلِقُرَیْشٍ نِصْفَ الْاَرْضِ وَلكِنَّ قُرَيْشًا يَعْتَدُّونَ یعنی اللہ کے رسول مسیلمہ کی طرف سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول محمد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سلام، نبوت اور حکومت کے معاملے میں مجھے آپ کا شریک بنایا گیا ہے، آدھی زمین ہماری ہے اور آدھی قریش کی۔ لیکن قریش حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہے۔‘‘
رسول اللہ کا جوابی مکتوب
مسیلمہ کے اس جھوٹے مکتوب کے جواب میں رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےجو مکتوب لکھااس کا مضمون یہ تھا:
’’مِنْ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللہِ اِلَی مُسَیْلَمَۃ الْکَذَّاب اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی اَمَّا بَعْدُ!فَاِنَّ الْاَرْضَ لِلّہِ یُوْرِثُھَا مَنْ یَّشَاءُ مِنْ عِبَادِہ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْن یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول محمد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے سخت جھوٹے مسیلمہ کی طرف! بلا شبہ زمین اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہے وہ جسے چاہتاہے اس کی ملکیت عطا فرماتاہےاور بہتر انجام اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والوں کے لیے ہے۔‘‘یہ خط وکتاب ۱۰سن ہجری کے اواخر میں ہوئی۔
(السیرۃ النبویۃ،لابن ھشام، کتاب مسیلمۃ الی رسول اللہ، ج۲، ص۵۰۶، مدارج النبوت، ج۲، ص۴۰۶)
ہر معاملہ الٹا ہوجاتا
علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے کئی معجزات دیکھے تھے، لہٰذا اس نے بھی اپنی نبوت کی سچائی کے لیے ویسا ہی کرنا چاہالیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت دیکھئے کہ وہ سارے معاملات اس کے دعوے کے الٹ ہوجاتے حتی کہ اگر وہ کسی کی عمر درازی کی دعا کرتا تو وہ شخص اسی