بعد حاصل کی اور یہ خود کو رحمان الیمامہ کہلاتاتھااس کا کہنا یہ تھا کہ جو شخص مجھ پر وحی لاتا ہے اس کا نام رحمن ہے۔یہ ملعون بہت بوڑھا ، انتہائی مکار اور حیلہ باز تھا۔ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے والد ماجد حضرت سیدنا عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی پیدائش سے بھی پہلے پیدا ہوا اور قتل کے وقت اس کی عمر ایک سو پچاس سال تھی۔
(تھذیب الاسماء واللغات، حرف المیم، الرقم: ۵۷۴، ج۲، ص۴۰۰، تاریخ الخلفاء، ص۵۸، مدارج النبوت، ج۲،ص۴۰۶)
بارگاہ رسالت میں حاضری
۱۰ سن ہجری مسیلمہ کذاب اپنی قوم بنی حنیفہ کے وفد کے ہمراہ مدینہ منورہ آیا، وفد کے افراد کی تعداد سترہ تھی، مسیلمہ کے سوا باقی سب نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے اسلام قبول کرلیا۔مسیلمہ کہنے لگا: ’’ إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْاَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبَعْتُهُ یعنی اگر محمد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے بعد خلافت مجھے عطا فرمادیں تو میں ان کی اتباع کروں گا اور ایمان قبول کرلوں گا۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے پاس تشریف لائے اور اس کے سر پر کھڑے ہوئے ، دست اقدس میں کھجور کی شاخ کا ایک ٹکڑا تھا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسیلمہ کذاب سے فرمایا: ’’لَوْ سَاَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَااَعْطَيْتُكَهَا وَلَنْ تَعْدُوَ اَمْرَ اللہِ فِيكَ وَلَئِنْ اَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ یعنی اگر تو اس ٹکڑے کی مانند بھی طلب کرے تو میں تجھے نہ دوں گا اور تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں ہرگز جارحیت اختیار نہیں کرسکتا اور اگر تونے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں پیٹھ دکھائی تو وہ ضرور تیری پکڑ فرمائے گا۔‘‘ایک روایت میں یہ ہے کہ اس نے بھی اسلام قبول کر لیا تھالیکن اپنے علاقے میں واپس آکر مرتدہوگیا اور نبوت کا دعوی کردیا۔ (صحیح البخاری، کتاب المناقب، علامات النبوۃ فی الاسلام، الحدیث:۳۶۲۰، ج۲، ص۵۰۶، سیرت سید الانبیاء، ص۵۷۴، مدارج النبوت، ج۲، ص۴۰۶)
مسیلمہ کذاب کا مکتوب
مسیلمہ کذاب جب حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ سے واپس گیا تو اس