اور ڈیڑھ ماہ تھیاور بعض کے نزدیک ۱۵ سال اور ساڑھے پانچ ماہ تھی۔امام ذہبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سلسلہ نسب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے جاری ہوا کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صاحب زادی سیدہ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی اولاد وفات پاگئی تھی۔‘‘ اسی سال ماہ شوال المکرم میں حضرت سیدنا عبد اللہ بن ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی وفات پا گئے۔حضرت سیدنا زبیر بن بکار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سیدہ خاتون جنت کی وفات سے ایک ماہ قبل حضرت سیدتنااُمّ ایمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی وفات فرماگئیں تھیں۔ (سیرت سید الانبیاء، ص۶۰۶، تاریخ الخلفاء، ص۵۷)
قبیلہ بنی تمیم کے مرتدین سےجہاد
بنو تمیم چند قبائل پر مشتمل اور چند بستیوں میں سکونت پذیر تھے۔ ان کے علاقے پر زمانہ نبوی میں چند عامل جو کہ انہی کی قوم سے مقرر تھے، جب وفات نبوی کی خبر مشہور ہوئی توان میں سے بعض مرتد ہوگئےاور بعض کی آپس میں بھی جنگ ہوئی۔اسی اثناء میں سجاح بنت حرثنے جو قبیلہ تغلب سے تعلق رکھتی تھی نبوت کا دعوی کیا اور بنی تغلب کے بعض سرداربھی اس کے ہمراہ ہوگئے۔اس نے اپنے متبعین کے لیے پنج وقتہ نماز تو لازم کر رکھی تھی، مگر سؤر کا گوشت کھانا، شراب پینا اور زناکرنا جائز قرار دے دیا تھا۔اسی لیے بہت سے عیسائی بھی اس کے ساتھ ہوگئے تھے۔جب یہ بنو تمیم کی بستیوں سے نکل کرکم وبیش چار ہزار کےلشکر کے ہمراہ آگے بڑھی توحضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لشکر کاسن کر خوفزدہ ہوگئی ۔مسیلمہ کذاب نے اسے اپنے پا س بلواکر ایک طویل گفتگوکے بعد اس سے نکاح کرلیا ۔ جب اس کےلشکر کا حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے سامنا ہوا تو اس کے تمام ساتھی بھاگ گئے اور یہ بھی فرار ہوکر قبیلہ بنی تغلب میں ’’جزیرہ‘‘ کے مقام پر پہنچ کر گمنامی کی زندگی بسر کرنے لگی۔ جبکہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بنو تمیم کے علاقے میں پہنچ کر وہاں کے مرتدین سے جہادکیا اور انہیں قتل وگرفتار کیا۔بعدازاں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسیلمہ کذاب کی طرف رخ کیا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۲۱۴ ملتقطا)