بنوطے قبیلے پر حضرت سیدنا عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو سپہ سالار مقرر کرکے حملہ کیا تومرتدین یک لخت بھاگ کھڑے ہوئے۔
سلمٰی نامی خاتون سےجنگ
جب مرتدین کا یہ لشکر شکست کھا کر بھاگا تو ان میں سے غطفان وسلیم و ہوازن وغیرہ قبائل کے لوگ مقام حواب میں جاکر مجتمع ہوگئے اور سلمٰی بنت مالک بن حذیفہ نامی عورت کواپنا سردار بنالیا۔ جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو معلوم ہوا توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لشکر کو ان پر چڑھائی کا حکم دیا سلمٰی اپنے لشکر کو لے کر مقابلے پر آئی اور ایک ناقہ یعنی اونٹنی پر سوار ہوکر خود سپہ سالاری کرنے لگی اس کی حفاظت کے لیے سو محافظ تھے ۔ حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس زور کا حملہ کیا کہ اس کی اونٹنی زخمی ہوکر گری اور سلمٰی مقتول ہوئی، اس کے مقتول ہوتے ہی مرتدین سے میدان خالی ہوگیا ۔
سیدہ خاتون جنت کا وصال پرملال
محبوب خدا ، حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری اور لاڈلی شہزادی حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا انتقال پرملال اِسی سال یعنی وصال نبوی کے چھ ماہ بعد منگل کے دن ۳ رمضان المبارک سن ۱۱ ہجری کو ہوا۔ وصال کے وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی عمر مبارک ۲۹ برس تھی، ایک روایت کے مطابق ۲۴ سال تھی، یہ اختلاف سن ولادت کے اختلاف کی وجہ سے ہے ۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ولادت ایک قول کے مطابق اعلان نبوت سے پہلے ان دنوں میں ہوئی جب قریش مکہ مکرمہ کی تعمیر نو کررہے تھے اور کعبہ کی تعمیر ولادت نبوی کے ۳۵ ویں برس ہوئی۔ دوسرے قول کے مطابق آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی ولادت ، ولادت نبوی کے ۴۱بر س بعد ہوئی یعنی نزول وحی کے پہلے سال۔حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ نکاح کے وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی عمر ۱۹سال