Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
37 - 691
 اس وقت کوئی انصاف پسند بادشاہ توتھا نہیں جس کے پاس وہ اپنے تمام معاملات کو پیش کرتے ، اس لیے ہرقبیلہ میں اس کے رئیس اور شریف شخص کو اس کی ولایت حاصل ہوتی تھی لہٰذالوگ اپنے فیصلے کروانے کے لیے آپ ہی کی خدمت میں حاضر ہوتے۔							(تاریخ مدینہ دمشق،  ج۳۰،ص۳۳۵، تاریخ الخلفاء،ص۲۴)
صدیق اکبر کا کاروبار
کپڑے کی تجارت 
مکہ کے چھوٹے بڑے تمام قبیلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تجارت کرتے تھے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہجب جوان ہوئے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی کپڑے کی تجارت شروع کی اوراپنے اعلی اخلاق، صاف گفتگو،زبان کی سچائی اور ایمان داری سے آپ نے بے حدنفع حاصل کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں آپ کا شمار مکہ کے معروف تاجروں میں ہونے لگا ۔
صدیق اکبر کا شام تک تجارتی سفر
سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے عہد مبارک میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنےتجارت کے لیے شام کے شہر بصری کا سفر اختیار فرمایا۔ نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رفاقت اور آپ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے گہری وابستگی کی شدید تڑپ کے باوجود آپ نے اس تجارتی سفر کو اہمیت دی اور خود رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے شدید محبت کے باوجود آپ کو یہ سفر کرنے سے منع نہ فرمایا۔									(فتح الباری، ج۱۰، ص۱۰۱)
رزق حلال کی اہمیت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس سفر تجارت سے اس بات کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ مسلمان کے لیے حلال