اور مرتدین کے خلاف جہاد کا آغاز فرمادیا۔ان کی تفصیل ملاحظہ کیجئے:
صدیق اکبر ومرتدین کے خلاف جہاد
معرکۂ سیدنا خالد بن ولید
قبیلہ بنی اسد وبنی غطفان سےجہاد
قبیلہ بنی اسد وبنی غطفان مدینۂ منورہ کے قریبی قبائل تھے ان کے خلاف جنگ کے لیے حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مقرر کیا گیا تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو روانہ کرنے سے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک خصوصی حکم بھی ارشاد فرمایا کہ ان پانچ ارکان اسلام: (۱)کلمہ طیبہ (۲) نماز (۳) روزہ (۴) حج بیت اللہ (۵)زکوٰۃ یا ان میں سے کسی ایک کے انکارکرنے والوں سے لڑائی کریں۔حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجمادی الآخر میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چل پڑےاور بنو اسد وبنو غطفان سے خوب لڑائی ہوئی۔بہت سے قتل ہوئے، بے شمار گرفتار ہوئے اور بچ جانے والے اسلام لے آئے حضرت سیدنا عکاشہ بن مِحصن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیدنا ثابت بن اقوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اسی جنگ میں شہید ہوئے۔
(تاریخ الاسلام للذھبی، ج۳، ص۲۸، تاریخ الخلفاء، ص۵۷)
مختلف قبائل کا اجتماع عظیم
قبیلہ بنو اسد کے ساتھ غطفان ، بنو عامر، بنو طی وغیرہ دیگر قبائل بھی جمع ہوگئے اور یوں کئی قبائل کا اجتماع عظیم ہوگیا۔
مرتدین بھاگ کھڑے ہوئے
جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں پہنچے تو قبیلہ بنو طے علیحدہ ہوگیااور وہ اسلام پر قائم رہا۔البتہ اس قبیلے کے بعض لوگ ارتداد پر قائم رہے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا ثابت بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اور