کر بقیہ تقسیم کردیا جائے گا اور خمس مدینہ منورہ میں ہمارے پاس بھیج دیا جائے گا ۔
(10) لشکرکے سپہ سالار کو اس بات کی تاکید کی جاتی ہے کہ اپنے ما تحت افراد کو عجلت یعنی جلد بازی اور فساد سے منع کرے۔
(11)سپہ سالار اپنے لشکر کے ہر فرد کو اچھی طرح شناخت کرلے اور کسی غیر کو اپنے لشکر میں قطعاً داخل نہ ہونے دے جب تک اس کے معاملے میں اچھی طرح چھان بین نہ کرلے تاکہ لشکر جاسوسوں کے فتنے سے محفوظ رہے۔
(12)ہرمعاملے میں مسلمانوں سے نیک سلوک کیا جائے۔خصوصاً لشکر کی روانگی اور قیام میں لوگوںسے نرمی کی جائے۔اسی طرح نشست وبرخاست اورگفتگو میں ایک دوسرے کے ساتھ رعایت اور نرمی کا پہلو ملحوظ رکھا جائے۔
ایک حیرت انگیزبات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بہت تعجب کی بات ہے کہ مسلمانوں کی یہ پہلی حکومت تھی اور حکمرانی کا انہیں پہلے سے قطعاً کوئی تجربہ نہیں تھا، لیکن امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجو بھی قدم اٹھاتے تھے حسن انتظام کے اعتبار سے موجودہ دور کے جدید حکمرانی کے اصولوں سے کہیں بہتر تھا۔ موجودہ دور میں حکومت کے مختلف محکموں کی تربیت کے لیے بے شمار ادارے قائم ہیں، جن پر کروڑوں ، اربوں روپے ماہانہ خرچ ہوتے ہیں، اس وقت اس قسم کا کوئی ادارہ نہ تھا لیکن ہر شعبے کا انتظام اس قدر شان دار اور صحیح تھا کہ موجودہ انتظامی امور کے ادارے ان کی گَرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے ۔آج کے انتہائی تعلیم یافتہ لوگ تمام معاملات میں ان ہی کے قائم کردہ اصولوں سے رہنمائی حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔یقیناً عہد صدیقی میں انتظامی معاملات کایہ بہترین انتظام عدیم المثال اوریہ عہد فقید النظیر تھا۔
تمام سپہ سالاروں کی روانگی
یہ تمام سپہ سالار سن ۱۱ہجری میں مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر اپنے اپنے لشکر کے ساتھ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف سے عطا کیے گئے جھنڈے کے ساتھ اپنے اپنے مقررہ علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے