صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو عطا کیے اور تمام اُمراء کو ایک نصیحت آموز فرمان لکھ کر دیا جس کا مضمون کچھ یوں تھا:’’یہ عہد نامہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ ابوبکر کی طرف سے فلاں سپہ سالار کو دیا جاتاہے کہ اُسے اُس کا ہدف دے کرمع لشکر اسلام مرتدین سے لڑنے کے لیے روانہ کیا جارہاہےاور اُس سے درج ذیل امور میں عہد لیا جاتاہے کہ وہ اِن کا پاس رکھے گا اورہرگزاِن کی مخالفت نہ کرے گا۔‘‘
(1) ظاہری اور باطنی طور پر ہرہر معاملے میں خوفِ خداوندی کو ملحوظ رکھا جائے اورکسی بھی کام میں خود کو غنی نہ سمجھیں۔
(2)مرتدین کے خلاف جنگ کرنے سے قبل اِتمام حجت(یعنی آخری دلیل وکوشش) کے طور پر سب سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دی جائے اگر وہ قبول کرلیں تو ان سے قطعاً لڑائی نہ کی جائے اور اگر وہ دعوت اسلام قبول نہ کریں تو ان کے خلاف جہاد کیا جائے۔
(3)زکوٰۃ وعشر وغیرہ کے معاملے میں جو ان پر زکوٰۃ بنتی ہے ان سے وہی وصول کی جائے کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔
(4)حقوق العباد کا خاص خیال رکھا جائے جس کا جو حق بنتاہے اسے ضرور دیا جائے اس میں کسی کی رعایت نہ کی جائے۔
(5)وہاںکےمسلمانوں کو دشمنوں کے ساتھ جنگ وجدال کرنے سے روکا جائے اور انہیںامن وآشتی کی تلقین کی جائے۔
(6)جس نے احکام خداوندی کا انکار کیا وہ مرتد ہوگیا اس سے لڑائی کی جائے گیاور جس نے دعوت کو قبول کر لیا وہ مسلمان اوربے قصور سمجھا جائے گا۔
(7)اور جو شخص زبان سے مسلمان ہوجائے لیکن دل میںکچھ اور عقیدہ رکھتا ہےتو خدائے رحمن عَزَّ وَجَلَّ اس کی خود ہی پکڑ فرمائے گا۔
(8)جو لوگ احکام شرعیہ کے منکر ہو کر لڑائی تک نوبت پہنچادیں تووہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر مسلمانوں کو ہی غلبہ عطا فرمائے گا۔
(9) مرتدین سے جہاد کے بعد فتح ونصرت کی صورت میں حاصل ہونے والا مالِ غنیمت خمس یعنی پانچواں حصہ نکال