علامت ہوگی کہ تم نے اسلام کو قبول کرلیا ہے تم پر حملہ نہ کیا جائے گا۔ اگر تم نے اذان نہ دی تو تم سے باز پرس ہوگی اور انکارکی صورت میں تم پر حملہ کردیا جائے گا۔
گیارہ سپہ سالاراور گیارہ جھنڈے
ان فرامین کو قاصدوں کے ہاتھ روانہ کرنے کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے گیارہ جھنڈے تیار کیے اور گیارہ سپہ سالار منتخب فرما کر ایک ایک جھنڈا ہر ایک سپہ سالار کو دیا۔ بعض کے نزدیک آٹھ جھنڈے تیار کیے بہر حال ہر ایک کے ساتھ فوجی دستہ تھا اورآپ نے حکم دیا کہ مکہ وطائف وغیرہ تمام مقامات سے جہاں جہاں اسلام پر ثابت قدم قبائل ملیں ان میں سے چند لوگوں کو ان قبائل اور ان کے گھر بار کی حفاظت کے لیے چھوڑ کر کچھ لوگوں کو اپنے لشکر میں شامل کرکے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔
پہلاجھنڈاسیدنا خالد بن ولید کودیاگیا
پہلا جھنڈا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو دیا اور انہیں حکم فرمایا کہ سب سے پہلے قبیلہ بنو اسد پر چڑھائی کریں اور جب اس مہم سے فارغ ہوجائیں تو مقام بطاح کی طرف مالک بن نویرہ پر حملہ آور ہوں اور اس کے خلاف جنگ کریں۔واضح رہے کہ بنو اسد اور بنو تمیم وہ قبائل تھے جو مدینہ منورہ کے قریب تھے اور طاقتور تھے لہٰذا ضروری تھا کہ جنگ کی ابتداء ان ہی قبائل سے کی جائے تاکہ ان کی شکست سے دوسرے قبائل کاحوصلہ ٹوٹ جائے۔
دوسرا جھنڈا سیدنا عکرمہ بن ابی جہل کو دیاگیا
دوسرا جھنڈا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو دیا اور حکم فرمایا کہ یمامہ جا کر قبیلہ بنی حنیفہ کے سردار مسیلمہ کذاب سے جنگ کریں اور یہ وہی مسیلمہ کذاب ہے جس نے نبوت کا جھوٹادعوی کیا تھا۔