Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
372 - 691
یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہکا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا ۔‘‘پس جو شخص حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پوجتا تھا تو وہ اچھی طرح سن لے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانتقال فرماگئے ہیں اور جو خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کیا کرتاتھا تو وہ بھی سن لے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ زندہ اور قائم ہے نہ وہ فوت ہوانہ ہوگا، نہ ہی اسے نیند اور اونگھ چھو سکتی ہے، وہ اپنے حکم کی نگہداشت فرماتاہے اور اپنی جماعت کے ذریعے دشمنوں سے بدلہ لینے والا ہے۔ میں تمہیں خدا سے ڈرنے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لائے ہوئے نور اور خدا کی رحمت سے حصہ لینے، اسلام کی ہدایت اختیار کرنے اور دین الٰہی کی مضبوط رسی کو پکڑنے کی وصیت کرتاہوں ۔جس کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہدایت نہ دی وہ گمراہ ہوا اورجس کو اس نے عافیت عنایت نہ کی وہ مصیبت میں مبتلا ہوا۔جس کی رب عَزَّ وَجَلَّ مدد نہ کرے وہ تنہا اور بے یارو مددگار ہے۔ انسان جب تک اسلام کا منکر ہے دنیا وآخرت میں اس کا کوئی عمل مقبول نہیں۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے بعض لوگوں نے اسلام قبول کرنے اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے کے بعد خدا سے منہ موڑ کر جہالت اور شیطان کی اطاعت کی طرف رجوع کیا ہے۔ کیا تم اللہکو چھوڑ کر شیطان اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہو جو تمہارے دشمن ہیں اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔پس تم بھی اس کو اپنا دشمن بناؤ۔ کیونکہ وہ تو اپنے گروہ کو تمہیں دوزخی بنانے کے لیے تیار کرتاہے۔ میں تمہاری طرف نیکی کی پیروی کرنے والے مہاجرین وانصار کے لشکر کو روانہ کرتاہوں ۔ میں نے ان کو حکم دیا ہے کہ اسلام کی دعوت دیے بغیر کسی سے مقابلہ نہ کریں، جو لوگ اسلام کا اقرار کریں اور برائیوں سے باز رہیں نیک کاموں سے انکار نہ کریں ان کی اعانت (مدد)کی جائےاور جو اسلام سے انکار کریں ان کا مقابلہ کیا جائے اور ان کی کچھ قدرومنزلت نہ کی جائےاورسوائے اسلام کے کچھ قبول نہ کریں۔ پس جو شخص ایمان لائے اس کے لیے بہتری ہے ورنہ وہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو عاجز نہیں کرسکتا۔ میں نے اپنے قاصد کو حکم دیا ہے کہ میرے اس اعلان کو مجمع میں پڑھ کر سنا دے۔جب اسلامی لشکر تمہارے قریب پہنچے اور ان کا مؤذن اذان دے تو تم بھی اس کے مقابلے میں اذان دو۔ یہ اس بات کی