مرتدین سے جہاد کا لائحہ عمل
مرتدین کوصدیق اکبر کامکتوب
امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مدینہ منورہ میں آتے ہی سب سے پہلے ایک مکتوب لکھوا یا اور اس کی متعدد نقلیں کروا کر قاصدوں کے ذریعے ہر مرتد قبیلے کی طرف بھیجا اور تمام لوگوں کو سنا نے کاحکم ارشاد فرمایا۔
(الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۰۸)
صدیق اکبر کے مکتوب کامضمون
’’رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ ابوبکر کی طرف سے ہر اس شخص کو جس کے پاس یہ مکتوب پہنچے خواہ وہ اسلام پر قائم ہو یا اسلام سے پھر گیا ہو معلوم ہونا چاہیے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےحضرت محمدمصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سچا نبی بنا کر بھیجا جو خوشخبری دینے والے اور ڈرسنانے والے اور خدا کے حکم سے لوگوں کو خدا کی طرف بلانے والے ہیں اور ہدایت کے سراج منیر ہیں۔جو شخص دعوت اسلام کو قبول کرتاہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کو ہدایت دیتا اور کامیابی کے سیدھے راستے پرچلادیتاہےاور جو انکار کرتاہے بحکم الٰہی اس کی طرف بذریعہ جہاد فرماں برداری کے لیے رجوع کیا جاتاہے۔ احکام الٰہی نافذ فرمانے ،مسلمانوں کو نصیحت کرنے اور اپنے فرائض تبلیغ کو بخوبی سرانجام دینے کے بعدرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دنیا سے تشریف لے گئے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی خبر قرآن مجید میں پہلے ہی سے دے دی تھی: (اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘) (پ۲۳، الزمر۳۰)ترجمۂ کنزالایمان:’’بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرناہے۔‘‘(وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْؕ-وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْــٴًـاؕ-وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن(۱۴۴)) (پ۴،اٰل عمران:۱۴۴)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور محمدتو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہو چکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں