تھی بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی حیات طیبہ میں ہی اس کی پیشن گوئی فرمادی تھی۔ چنانچہ اس ضمن میں تین احادیث پیش خدمت ہیں:
(1)حضرت سیدنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:’’إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ،لَا نَبِيَّ بَعْدِي یعنی عنقریب میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے اور سب کے سب نبوت کا دعوی کریں گے حالانکہ میں سب سے آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (سنن ابی داود، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلھا، الحدیث: ۴۲۵۲، ج۴، ص۱۳۳)
(2) حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا، مِنْهُمَ الْعَنَسِيُّ وَمُسَيْلَمَةُ وَالْمُخْتَارُیعنی قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس جھوٹے نبی ظاہر نہ ہوجائیں اور ان جھوٹے نبیوں میں سے عنسی ،مسیلمہ اور مختار ہے۔‘‘(مصنف ابن ابي شیبہ،کتاب الامراء، باب ما ذکر من حدیث ا لامراء۔۔۔ الخ،الحدیث: ۵۷، ج۷، ص۲۵۷،مسند ابي یعلی، مسند عبد اللہ بن زبیر، الحدیث: ۶۷۸۶، ج۶، ص۴۵)
(3)دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاَثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمُ الاَعْوَرُ الدَّجَّالُیعنی قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس جھوٹے نبی ظاہر نہ ہوجائیں اور ان جھوٹے نبیوں میںسب سے آخر میں کانا دجال ظاہر ہوگا۔‘‘(مسند امام احمد ، حدیث سمرۃ بن جندب، الحدیث: ۲۰۱۹۸، ج۷، ص۲۶۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کے عین مطابق قیامت تک یہ جھوٹے نبی توظاہر ہوں گے لیکن امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے دور کے تمام جھوٹے مدعیان نبوت اورمرتدین سے نمٹنے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا۔