کہا کہ میں تمہیں زکوٰۃ معاف کرتاہوں وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا ان احکام شرعیہ میں تحریفات کے سبب بھی کئی لوگ مرتد ہوکر دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔
چوتھی وجہ،منافقین کا منفی کردار
فتح مکہ کے موقع پر کئی ایسے لوگ بھی مسلمان ہوئے جو بظاہر تو کلمہ گوتھے لیکن کلمہ پڑھنے کے بعد ان کے دل دیگر مسلمانوں کی طرح اسلام کے نور سے معمور ہونے کے بجائے اسلام کے بغض وعداوت سے بھرپور رہے۔ انہوں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات ظاہری کے بعد اسلام دشمنی جیسے اپنے عظیم مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف قبائل کو اپنا گرویدہ بنانا شروع کردیا اور اُن کی فاسد ذہنی تربیت شروع کردی۔ اسی تربیت کے نتیجے میں کچھ قبائل مکمل ارتداد کو اختیار کربیٹھے اور بعض نے اسلام کے مسلمہ اصولوں پر مختلف اقسام کے اعتراضات شروع کردیئےاور فاسد اجتہاد کے ذریعے مختلف مسائل میں تبدیلی کرنا شروع کردی۔ منکرین زکوٰۃ کا فتنہ بھی اسی سازش کا پیدا کردہ ہے۔ (الکامل فی التاریخ، ص۲۰۱تا۲۵۰ ماخوذا)
یہ مرتدین کس قسم کےتھے؟
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری کے بعد جو قبائل مرتد ہوگئے تھے ایسا نہیں تھا کہ وہ توحید چھوڑ کر شرک میں مبتلا ہوگئے تھے اور خدا کی جگہ بتوں کی پرستش شروع کردی تھی، بلکہ ان مرتدین کے مختلف احوال تھے ۔ مثلاً: ان میں سے کئی ایسے تھے جو صرف اور صرف زکوٰۃ کی فرضیت کے منکرتھے بقیہ احکام شرعیہ کوتسلیم کرتے تھے، بعض نمازوں میں تخفیف کے قائل تھے، بعض پانچوں نمازوں کی فرضیت کے قائل تھے لیکن انہوں نے سؤرکا گوشت ، شراب اور زناوغیرہ کو حلال کرلیا تھاوغیرہ وغیرہ۔
جھوٹے مدعیان نبوت کی پیشن گوئی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ ان مرتدین وجھوٹے مدعیان نبوت کا پیدا ہونا کوئی انہونی بات نہیں