Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
36 - 691
 لائے ، سارا واقعہ بیان کیا ۔ ماں نے کہا :اسے اس کے حال پر چھوڑ دو جب یہ پیدا ہوا تھا تو غیب سے آواز آئی تھی کہ: ’’اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سچی بندی! تجھے خوشخبری ہویہ بچہ عتیق ہے ، آسمانوں میں اس کا نام صدیق ہے ، محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا صاحب اور رفیق ہے ۔‘‘یہ روایت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے خود مجلس اقدس میں بیان کی۔ جب یہ بیان کرچکے ، حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام حاضر بارگاہ ہوئے اور عرض کی: ’’صَدَقَ اَبُوبَکْرٍ وَّھُوَ الصِّدِّیْقُیعنی ابوبکر نے سچ کہا اور وہ صدیق ہیں ۔‘‘اور تین بار یہی الفاظ دہرائے۔  (ارشاد الساری، کتاب مناقب الانصار، باب اسلام ابی بکر،  ج۸، ص۳۷۱، ملفوظات اعلی حضرت ،ص۶۰تا۶۱ بتصرف)
صدیق اکبر کی جوانی،زمانہ جاہلیت کی زندگی
عظمت وشرافت
علامہ ابوزکریایحی بن شرف نووی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی  فرماتے ہیں:’’آپ کا شمار زمانہ جاہلیت میں رؤساء قریش میں ہوتا تھا اور دیگر سردار آپ سے مختلف امور میں مشورے کیا کرتے تھے ، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہان کے اچھے برے تمام معاملات کو اچھی طرح جانتے تھے جب اسلام کا پیغام ملا تو اسلام کو دنیا پرترجیح دی اور صرف اسلام کے لیے اپنی زندگی کووقف کر دیا۔‘‘ (اسد الغابۃ، باب العین،عبد اللہ بن عثمان ابوبکر الصدیق،ج۳،ص۳۱۶، تاریخ الخلفاء، ص۲۴، تھذیب الاسماء واللغات للنووی،ابوبکر الصدیق، الرقم:۷۲۷، ج۲، ص ۴۷۳)
زمانہ جاہلیت واسلام دونوں کی مسلمہ شخصیت
حضرت سیدنا معروف بن خربوذ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا شمار قریش کے ان دس مایہ نازلوگوں میں ہوتا ہے جن کی شرافت زمانہ جاہلیت اورزمانہ اسلام دونوں میں تسلیم کی جاتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس لوگ فیصلہ کروانے کے لیے اپنے مقدمات لایاکرتے تھےکیونکہ