Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
368 - 691
مسلمان ہوئے ان کا معاملہ تھوڑا مختلف تھا، بعض قبائل نے تو بغیر سوچے سمجھے دیگر قبائل کو دیکھتے ہوئے اسلام قبول کرلیااور بالآخر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفاتِ ظاہری کے بعد انہوں نے اسلام کو ترک کرنا شروع کر دیا۔
دوسری وجہ،بیرونی عوامل
ترکِ اسلام اور بغاوت وارتداد کی تہہ میں کچھ بیرونی عوامل بھی کار فرما تھےاور یقیناً بیرونی عوامل ہر معاملے میں ہر وقت اپنا اثر دکھاتے ہیں۔ دراصل مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ کے قرب وجوار کے علاقے ایرانی اور رومی کفار کے اثرو رسوخ سے باہر اور ان کی سیاسی رسائی سے محفوظ تھے، لیکن عرب کا شمالی علاقہ جو ملک شام کی حدود سے ملحق تھا اورجنوبی علاقہ جو ایران سے ملا ہوا تھا اس دور کی دو عظیم سلطنتوں ایران وشام کے زیر اثر تھا۔ سرحدی اتصال کی وجہ سے ان دونوں ملکوں کے لوگوں کی ایک دوسرے کے علاقوں میں آمدورفت رہتی تھی اوروہاں کے عرب ان کی تہذیب و ثقافت سے متاثر تھے۔ سرحدی علاقوں کے عرب سردار بھی رومیوں اور ایرانیوں کے بہت حد تک زیر اثر تھے۔ قبائلی عرب عوام پر بھی ان کے اثرات غالب تھے، ان حالات میں عین ممکن ہے کہ عرب قبائل کے ارتداد وبغاوت کی وجہ شخصی آزادی اور خود مختاری کے جذبات، شمالی عرب میں عیسائی اور جنوب ومشرق میں مجوسی حکومتوں سے قرب واتصال کی وجہ سے دلوں پر عیسائیت اور مجوسیت کا اثر، اپنے آبائی مذہب ’’بت پرستی‘‘سے محبت جیسے امور کار فرماہوں۔
تیسری وجہ، احکامات شرعیہ میں نرمی
ایسے مبتدی مسلمان جنہوں نے ابھی احکام شرعیہ اوراس کے فوائد سے مکمل آگہی حاصل نہ کی تھی اور دینی ودنیوی امورکے مابین فرق نہیں کرسکتے تھے انہیں احکام شرعیہ کی تعمیل میں دشواری پیش آتی تھی، لہٰذا نبوت کے جھوٹے دعوے داروں نے ان کی اس کمزور سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نبوت کے دعوے کے ساتھ ساتھ احکام شرعیہ میں نرمی کردی، کسی نے کہا کہ معاذ اللہ میں نبی ہوں، تم پر پانچ کے بجائے صرف دو نمازیں فرض کرتاہوں اور یہی کافی ہے، کسی نے