Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
367 - 691
 لہراتے ہوئے نکلےتوحضرت سیدناعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمآپ کے گھوڑے کی لگام تھام کر عرض گزار ہوئے: ’’اے خلیفۂ رسول!آج میں آپ سے وہی بات کہوں گا جو میدان اُحد میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمائی تھی ،اپنی تلوار نیام میں کرلیں، ہمیں اپنی جان کے خطرے سے نہ ڈرائیں اور مدینہ کو واپس لوٹ جائیں۔ اگر آپ شہید ہوگئے تو ہمارا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔‘‘ یہ سن کرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ واپس لوٹ آئے۔ (البدایۃ والنھایۃ،  ج۵،ص۱۹،کنزالعمال، کتاب  الخلافۃ مع الامارۃ، قتالہ مع اھل الردۃ، الحدیث:۱۴۱۶۲،ج۳،الجزء :۵،  ص۲۶۴)
صدیق اکبر اور مرتدین کے خلاف جہاد
بغاوت وارتداد کی وجوہات
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی حیات طیبہ میں مسلمانوں کی افرادی طاقت کو دیکھ کر بعض قبائل نے بظاہر اسلام قبول کرلیا تھا لیکن پھر انہوں نے منافقین کی سازشوں کے باعث ارتداد اختیار کرلیا یعنی دین اسلام سے پھر گئے ۔ساتھ ہی چند ایک کم ظرف گھٹیا اور جھوٹے مدعیان نبوت بھی پیدا ہوگئے۔اس پر طرہ یہ کہ کچھ قبائل نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں پس وپیش سے کام لینا شروع کردیا ۔ان تمام فتنوں کے پیدا ہونے کی وجوہات درج ذیل ہیں:
پہلی وجہ،اسلامی تعلیم میں پختہ نہ ہونا
دیگر قبائل نے اسلامی تعلیم میں وہ پختگی حاصل نہیں کی تھی جو مکہ مدینہ اور اس کے قرب وجوار کے مسلمانوں کے دلوں میں تھی۔ کیونکہ انہوں نے تو ابتدا سے انتہاء تک سب کچھ اپنی آنکھوں سے نہ صرف دیکھا تھا بلکہ اسلام کے لیے سخت ترین تکالیف برداشت کیں اور انہوں نے اسلام ہی کو اپنا اوڑھنا ، بچھونا بنا لیا تھا۔ لیکن جو قبائل خصوصاً فتح  مکہ کے بعد