رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسچ فرمارہے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا لاالہ الااللہ۔۔۔الخ،الحدیث:۳۲، ص۳۲، الریاض النضرۃ، ج۱، ص۱۴۷)
فرط محبت سےسر چوم لیا
حضرت ابو رجاء عمران عطاردی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا تو میں نے دیکھاکہ ایک جگہ کافی لو گ اکٹھے ہیں اور ان میں سےایک شخص کسی دوسرے کا سر چوم رہا ہےاور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہاہے کہ’’اَنَا فِدَاؤُکَ لَوْلَااَنْتَ لَھَلَکْنَایعنی میں تم پر فدا ہوں، اگر تم نہ ہوتے تو ہم تباہ ہو جاتے۔‘‘میں نے کسی سےپوچھا:’’یہ دونوں کون ہیں؟‘‘ بتایا گیا:’’یہ سرچومنے والے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجن کا سرچوم رہے ہیں وہ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہیں، کیونکہ انہوں نے زکوٰۃنہ دینے والوں سے جہاد کیا اور اب وہ مانعین زکوٰۃ ذلیل ہو کر خود ان کی بارگاہ میں زکوٰۃ لائے ہیں۔‘‘ (المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، ذکر خبر ردۃ الیمن، ج۴، ص۸۷)
اِصابت رائے پرآفریں
حضرت سیدنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے منکرین زکوٰۃ کے خلاف اعلان جہاد کیا تواولاً ہم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مذکورہ اعلان کو ناپسند کیا لیکن جب اس کے اچھے نتائج کو دیکھا توبعد میں ہم آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی اِصابت رائے پر آفریں کہہ اٹھے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ کام نہ کرتے تو تاقیامت لوگ زکوٰۃ کے منکر ہوجاتے۔‘‘ ( روح البیان، المائدۃ: ۵۱، ج۲،ص۴۰۵)
مولاعلی کےوالہانہ جذبات
جب منکرین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بذات خود گھوڑے پر سوار ہو کر تلوار