لوٹنے تک امیر ہی رہے اور اسی کی اطاعت کی جائے ۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاس مشورے کو قبول فرمایااور حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمادیااور ارشاد فرمایا:’’جب وہ اسلام لے آئیں اور زکوٰۃ ادا کر دیں تو تم میں سے جو بھی واپس آنا چاہے وہ آجائے ۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینۂ منورہ واپس لوٹ گئے۔
(تاریخ مدینۃ دمشق، ج۲، ص۵۳، تاریخ الاسلام للذھبی، ج۳، ص۲۸)
شرعی معاملے میں کوئی نرمی نہیں
حضرت سیدناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور خلافت میں بعض قبائل عرب مرتد ہوگئے اور زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو جمع کرکے ان سے مشاورت کی تو ان میں اختلاف واقع ہوگیا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے عرض کیا:’’اے امیر المؤمنین! اگرآپ نےان لوگوں سے ایک ادنی سی ایسی شے نہ لی جسے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بطورزکوہ وصول فرماتے تھے تو یہ سنت رسول کی مخالفت ہوگی۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ سن کر ارشادفرمایا:’’اچھا اگرایسا ہے تو میںان کے خلاف جہاد کروں گا۔‘‘بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے ان سے نرمی کرنے کا مشورہ دیا۔یہ سن کرحضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :’’وحی کا سلسلہ ختم ہوچکااور اب دین مکمل ہے تو کیا میرے ہوتے ہوئے دین میںکوئی کمی ہوجائے گی۔ خدا کی قسم! میں زکوٰۃ اور نمازکے درمیان فرق کرنے والوں سے ضرور جہاد کروں گا، کیونکہ زکوٰۃ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حق ہے۔ خدا کی قسم! اگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوبطورزکوٰۃ دی جانے والی ایک رسی بھی اپنے پاس رکھیں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔‘‘حضر ت سیدناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا یہ روح پرور اندازبیان دیکھ کرمجھے یوں لگا جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا سینہ جہادکے لیے کھول دیا ہے،ا ور آپ