Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
364 - 691
 سے بڑھنے کی صورت میں علیحدہ کرنا ضروری ہے کہ یہ سب جسم کی زکوٰۃ یعنی اضافی چیزمَیل ہیں۔بیماری تندرستی کی زکوٰۃ، مصیبت راحت کی زکوٰۃ ، نمازیں دنیاوی کاروبار کی گویا زکوٰۃ ہیں۔
(5) اگر ہر وہ شخص جس پر زکوٰۃ فرض ہے زکوٰۃ کی ادائیگی کا التزام کرلے تو مسلمان کبھی دوسروں کے محتاج نہ ہوں گے۔ مسلمانوں کی ضرورتیں مسلمانوں سے ہی پوری ہوجائیں گیاور کسی کو بھیک مانگنے کی بھی حاجت نہ ہوگی۔  (رسائل نعیمیہ، ص۲۹۸، بتصرف)
منکرین زکوٰۃکےخلاف جہاد ضروری تھا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی اسلام میں زکوٰۃ کے مذکورہ بالا نظریہ (Concept) پڑھ کر ہر شخص اندازہ لگا سکتاہے کہ منکرین زکوٰۃ کے خلاف حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جہاد فرمانا کس قدر ضروری تھا۔اگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس وقت اس فتنے کا قلع قمع نہ کرتے تو قیامت تک زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے فوائد کثیرہ سے مسلمان محروم ہوجاتےاور مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ ناپید ہوجاتا۔
منکرین زکوٰۃ کی سرکوبی
مہاجرین وانصارکا جنگی لشکر
حضرت سیدنا عروہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے منقول ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مہاجرین وانصار کا ایک جنگی لشکر لے کر روانہ ہوئے حتی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نجد کے بالمقابل ایک سرسبزوشاداب علاقے میں پہنچے تو اس علاقے کے دیہاتی لوگ مسلمانوں کے اس جنگی لشکر کو دیکھ کراپنے بیوی بچوں سمیت بھاگ گئے۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے مشورہ دیتے ہوئے عرض کی :’’یا امیر المؤمنین! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمدینہ منورہ بچوں اور عورتوں کے پاس تشریف لے جائیے کہ وہ سب وہاں اکیلے ہیںاور یہاں اس لشکر پر کسی کو امیر مقرر فرمادیجئےجو لشکرکے فتح یاب ہو کر