Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
363 - 691
تمام اونٹ سب کے سب نہایت فربہ ہو کر آئیں گے، پاؤں سے اُسے روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے، جب ان کی پچھلی جماعت گزر جائے گی، پہلی لوٹے گی اور گائے اور بکریوں کے بارے میں فرمایاکہ اس شخص کو ہموار میدان میں لِٹائیں گے اور وہ سب کی سب آئیں گی، نہ ان میں مڑے ہوئے سینگ کی کوئی ہوگی، نہ بے سینگ کی، نہ ٹوٹے سینگ کی اورسینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی۔    (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ، الحدیث: ۹۸۷، ص۴۹۱)
زکوٰۃ کی ادائیگی کی حکمتیں اور فوائد کثیرہ
(1)سخاوت انسان کاکمال ہے اور بخل عیب۔اسلام نے زکوٰۃ کی ادائیگی جیسا پیارا عمل مسلمانوں کو عطا فرمایاتاکہ انسان میں سخاوت جیساکمال پیدا ہواور بخل جیساقبیح عیب اس کی ذات سے ختم ہو۔
(2)جیسے ایک ملکی نظام ہوتاہے کہ ہماری کمائی میں حکومت کابھی حصہ ہوتاہے جسے وہ ٹیکس کے طور پر وصول کرتی ہے اور پھر وہی ٹیکس ہمارے ہی مفاد میں یعنی ملکی انتظا م پر خرچ ہوتاہے بلا تشبیہ ہمیں مال ودولت اور دیگرتمام نعمتوںسے نوازنے والی ہمارے رب
 عَزَّ وَجَلَّ ہی کی پیاری ذات پاک ہےاور زکوٰۃ    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حق ہے ، جو ہمارے ہی غرباء پر خرچ کیا جاتاہے۔
(3)رب عَزَّ وَجَلَّ چاہتاتو سب کو مال ودولت عطا فرماکر غنی کردیتا لیکن اس کی مشیت ہے کہ اس نے اپنے ہی بندوں میں بعضوں کو امیر اور دولت مندکیا اور بعضوں کو غریب رکھااور امیروں یعنی صاحب نصاب پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم کردی تاکہ اس سے امیروں اور غریبوں میں محبت وانسیت اور باہمی امداد کا جذبہ پیداہو اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کو سب مل بانٹ کر کھائیںاور اس کا شکرادا کریں۔
(4)شریعت نے زکوٰۃ فرض کرکے کوئی انہونی چیز فرض نہیں کی بلکہ اگر ہم اپنے اطراف میں غوروفکر کریں تو زکوٰۃ کی حقیقت ہر جگہ موجود ہے۔ جیسے کہ پھلوں کا گودا انسان کے لیے ہے مگر چھلکا جانوروں کا حق ہے۔گندم میں پھل ہمارا حصہ مگر بھوسہ جانوروں کا ، گندم میں بھی آٹا ہمارا ہے تو بھوسی جانوروں کی۔ہمارے جسم میں بال اور ناخن وغیرہ کا حد شرعی