Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
362 - 691
فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(۳۵)) (پ۱۰، التوبۃ ۳۴،۳۵)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتےانہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی، جس دن وہ تپایا جائے گا جہنّم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔‘‘
(3)(وَ  لَا  یَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَبْخَلُوْنَ  بِمَاۤ  اٰتٰىهُمُ  اللّٰهُ  مِنْ  فَضْلِهٖ  هُوَ  خَیْرًا  لَّهُمْؕ-بَلْ  هُوَ  شَرٌّ  لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ  مَا   بَخِلُوْا  بِهٖ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ) (پ۴، اٰل عمران۱۸۰)ترجمۂ کنزالایمان:’’ اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ  نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا۔‘‘
زکوٰۃ کی عدم ادائیگی پرتین آحادیث مبارکہ
(1)’’جو قوم زکوٰۃ نہ دے گی،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔‘‘
(المعجم الاوسط، من اسمہ عبدان، الحدیث: ۴۵۷۷، ج۳، ص۲۷۵ تا۲۷۶)
(2) دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے، اُن میں ایک وہ تونگر ہے کہ اپنے مال میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا۔			    (صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الزکوٰۃ، باب ذکر ادخال مانع الزکوٰۃ النار الخ، الحدیث: ۲۲۴۹، ج۴، ص۸)
(3)جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے تو جب قیامت کا دن ہوگا اس کے لیے آگ کے پتھر بنائے جائیں گے ان پر جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی اور اُن سے اُس کی کروٹ ، پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی، جب ٹھنڈے ہونے پر آئیں گے پھر ویسے ہی کر دیے جائیں گے۔ یہ معاملہ اس دن کا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے، اب وہ اپنی راہ دیکھے گا خواہ جنت کی طرف جائے یا جہنم کی طرف اور اونٹ کے بارے میں فرمایا: جو اس کا حق نہیں ادا کرتا، قیامت کے دن ہموار میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہ