الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ تشریف لائے توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اصحاب میں صرف حضرت سیدناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہایسے تھے جن کی ریش مبارک میں سفید بال بھی تھے اس لیے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمہندی اور کتم استعمال فرماتے تھے۔‘‘ (الطبقات الکبری، ذکر صفۃ ابی بکر، ج۳، ص۱۴۲)
’’کَتَم‘‘ کسے کہتے ہیں؟
اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ شریف میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِیکے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں:’’صحیح طور پر یہ بات ہم تک پہنچی کہ امیرالمومنین حضرت سیدناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مہندی اور کتم سے خضاب استعمال کیا، کتم ایک گھاس کانام ہے جس کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج۲۳،ص۵۰۲)
صدیق اکبر کا بچپن
بچپن کی حیرت انگیز حکایت
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ ۵۶۱ صفحات پر مشتمل کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت (مکمل ۴حصے)‘‘ صفحہ۶۰تا ۶۱پر ہے: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کبھی بُت کو سجدہ نہ کیا ۔ چندبر س کی عمر میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے والد بُت خانے میں لے گئے اورکہا :’’یہ ہیں تمہارے بلند وبالا خدا، انہیں سجدہ کرو۔‘‘ پھر انہیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بُت کے سامنے تشریف لے گئےتو فرمایا : ’’میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے ،میں ننگاہوں مجھے کپڑا دے ، میں پتھرمارتا ہوں اگرتُوخدا ہے تو اپنے آپ کو بچا۔‘‘وہ بُت بھلا کیا جواب دیتا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک پتھر اس کے مارا جس کے لگتے ہی وہ گر پڑا اور قوت خدا داد کی تاب نہ لاتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ۔باپ نے یہ حالت دیکھی انہیں غصّہ آیا، اور وہاں سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ماں کے پاس