Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
356 - 691
 ہوگئے تھے ان لوگوں سے لڑنے یا قتال کرنے میں کسی صحابی کو اختلاف نہ تھا۔
(2) وہ قبائل جو زکوٰۃ کے ادا کرنے سے انکار کرتے تھے ان سے قتال کرنے کو بعض صحابہ نے نا مناسب خیال کیا تھا لیکن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اظہار رائے کے بعدتمام صحابہ ان کی رائے سے متفق ہوگئے تھے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں میں کچھ فرق تو ضرور تھا۔ لیکن مسلمانوں نے جب کہ دونوں کے مقابلہ کو یکساں ضروری قرار دیا تو پھر ان دونوں میں کوئی فرق وامتیاز باقی نہ رہا تھا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دونوں گروہ دنیا طلبی اور مادیت کے ایک ہی سیلاب میں بہہ گئے تھے جن کو حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تدبیر وروحانیت نے غرق ہونے سے بچایا اور اس طوفان ہلاکت آفرین سے نجات دلا کر عرب کا بیڑا ساحلِ فوزوفلاح تک صحیح سلامت پہنچایا۔
مختلف قبائل کا مختلف کردار
اس وقت عرب کے بہت سے قبیلے آباد تھے جو ارتداد اور بغاوت کے اس سنگین دور میں مختلف مثبت اور منفی کرداروں کے حامل تھے۔ مثلاً:
(1)…جو قبائل مکہ ، مدینہ اور طائف کے درمیان آباد تھے، وہ بدستور سابق اسلام پر قائم رہےاور ان میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہوا۔
(2)…مزینہ ، بنوغفار، جہینہ، اشج، بنو طی، بنو اسلام اور بنو خزاعہ کے قبیلوں میں بھی کوئی فتنہ پیدا نہ ہوا اور انہوںنے بھی اسلام ترک نہیں کیا۔ان کے علاوہ بہت سے قبائل نے ارتداد کی راہ اختیار کرلی تھی۔
(3)…جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے یا جن کے دلوں پر اسلامی احکام نے پورا اثر نہیں کیا، وہ بھی مرتد اور باغی ہوگئے تھے۔جیسے قبیلہ بنو اسلم وغیرہ
(4)…بعض لوگ اسلام کو تو بالکل صحیح مانتے تھے اور اس کے کسی جز کے منکر نہ تھے۔ لیکن مدینۂ منورہ کی حاکمیت ماننے کو تیار نہ تھے، نہ وہ مدینۂ منورہ کے انصار کی حکومت کے قائل تھے نہ مہاجرین کی۔ ان کے نزدیک دونوں گروہ