Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
355 - 691
مجمع البحرین کی حیثیت حاصل تھی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت دین کی تکمیل ہو چکی تھی اور کسی شخص کو اس میں دخل انداز ہونے یا کسی معاملے میں تبدیلی کرنے یا کسی حکم کو منسوخ کرنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری کے بعد عرب کے حالات کافی حد تک بدل گئے تھے۔ ارتداد کا فتنہ پیدا ہوگیا تھا۔ متعدد قبائل نے اسلام سے انحراف کی راہ اختیار کرلی تھی اور مختلف مقامات پر بغاوت کے آثار پھیل گئے تھے۔ یہ نہایت خطرناک اور نازک موقع تھااب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے لازم ہوگیا تھا کہ وہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کوئی مضبوط اور جرأت مندانہ پالیسی اپنائیں ۔ سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی حیات طیبہ کے آخری سالوں میں مختلف سلطنتوں کے سربراہوں اور قبیلوں کے سرداروں کے نام اسلام کی دعوت دینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا تھا۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکسی نہ کسی انداز میں اسے بھی جاری رکھنے اور نتیجہ خیز بنانے کے خواہاں تھے۔انہوں نے یہ عظیم اور نہایت ضروری فریضہ کس طرح سرانجام دیا،یہ بہت بڑی ذمہ داری کس انداز میں پوری کرنے کا عزم کیا ، کس طریقے سے اس پر عمل کی دیواریں استوار کیں، کس طریقے سے مختلف فتنوں کی سرکوبی کی اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا، کس طرح ان کے خلاف عملی کاروائی کی۔ حضرت سیدناصدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اس پیاری حیات طیبہ کوملاحظہ کیجئے۔
صدیق اکبر اور مختلف قبائل کا  ارتداد وبغاوت
دوطرح کے لوگوں سےمقابلہ
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے منصب خلافت سنبھالتے ہی جن لوگوں سے مقابلہ در پیش تھا ،وہ دو(۲ )قسم کے تھے:
(1) وہ لوگ جو نجد، یمن اورحضرموت وغیرہ کی طرح مسیلمہ وسجاح وغیرہ جھوٹے مدعیان نبوت کے ساتھ متفق