ایک جیسے تھے اور وہ دونوں کو صحیح قرار نہیں دیتے تھے۔
(5)…کچھ وہ لوگ تھے جو اسلام کو تو سچا مذہب سمجھتے تھے لیکن زکوٰۃ ادا کرنے پر آمادہ نہ تھے، ان کا خیال تھا کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیات طیبہ میں تو زکوٰۃ ادا کرنا ضروری تھا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے انتقال کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول تھے آپ پر وحی نازل ہوتی تھی اور جو کچھ آپ مسلمانوں سے طلب فرماتے تھے وہ دینا ضروری تھا لیکن آپ کی وفات کے ساتھ ہی یہ فریضہ ساقط ہوگیااور اب کسی چیز کی ادائیگی کی ضرورت نہیں۔
(6)…کچھ قبائل کے اذہان میں یہ شیطانی وسوسہ گردش کرنے لگا کہ جب ہم عشر دیتے ہیں تو زکوٰۃ کیوں ادا کریں، اس کی قطعاً ضرورت نہیں۔
(7)…جن قبیلوں نے صرف زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا تھا وہ مدینۂ منورہ کے قرب وجوار کے قبائل عبس، ذبیان، بنوکنانہ، بنو غطفان اور فزارہ وغیرہ تھے۔
(8)…جو قبائل اسلام سے دور ہوگئے تھے وہ مدینۂ منورہ سے کافی دور تھے۔
(9)…بعض قبائل نے جھوٹے مدعیان نبوت کی اتباع شروع کردی تھی۔ جیسے: بنواسد نے کی، بنو تغلب اور بنو تمیم کے بعض لوگوں نے سجاح نامی خاتون کی، یمامہ نے مسیلمہ کذاب کی، عمان نے ذوالتاح لقیط بن مالک کیاور یمن والوں نے اسود عنسی کی اتباع شروع کردی۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۰۱تا۲۴۸ ماخوذا)
گویاحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہخلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی گوناں گوں مسائل اور گھمبیر امور کے درمیان پھنس گئے، ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیےاور ان سے بطریق احسن نمٹنے کے لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی دینی ودنیوی بصیرت کا بھرپور استعمال کیا اور شجراسلام کومزید تقویت دی۔اس وقت پیدا ہونے والے فتنوں اور ان کے خلاف آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی عملی کاروائی ملاحظہ کیجئے: