ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ملفوظات کی روشنی میں شام کی فوجوں کے ساتھ جہاد کیا اور انہیں شیرِ ببر کی طرح چیر کر رکھ دیا۔ بے شمار مال غنیمت لے کر اپنے فاتح لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو خود امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے باہر نکل کر ان کا استقبال کیا۔مدینہ منورہ میں چالیس۴۰ دن بعد ان کی واپسی ہوئی تھی،بعض روایات کے مطابق ستر (۷۰)دن یعنی دو(۲) مہینے دس دن کے بعد۔ مسلمان اس عظیم الشان فتح سے بہت خوش اور رومی ودیگر مرتد قبائل سخت پریشان ومرعوب ہوگئے۔
صدیق اکبر اوراسلامی نظام حکومت
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا نظام حکومت عربوں کے ذہن وفکر کے عین مطابق اور زمانہ نبوی سے بالکل متصل زمانہ تھا۔ پھر خود حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے باہم گہرے اور مضبوط تعلقات تھے لہٰذا ان کی خلافت کا وہی نظام تھا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے سے چلا آرہا تھا اور جس سے اہل مدینہ اور دوسرے علاقوں کے مسلمان اچھی طرح متعارف ومانوس ہوگئے تھے۔ لیکن جب فتوحات کے سلسلے نے وسعت اختیار کی اور مسلمان عرب سے باہر نکل کر دوسرے ملکوں اور علاقوں میں پھیلتے چلے گئے تو وہ قدیم نظامِ حکومت آہستہ آہستہ بدلناشروع ہوگیایہاں تک کہ عباسی سلطنت قائم ہوگئی اور اس کے دور عروج میں حالات میں اس درجہ تغیر پیدا ہوگیا کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے عہد خلافت کی کوئی شے کہیں نظر نہ آتی تھی۔ تمام نظام حکومت یکسر متغیر ہوگیا تھا۔
صدیق اکبر کامنفرد نظام حکومت
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا زمانۂ سلطنت اور نظامِ حکومت بالکل منفرد نوعیت کا تھا۔ ان کے دور کو دو(۲) جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دینی سیاست اور حکومت وقت کی دنیوی سیاست کے