کمزور اور حملہ مضبوط ہوتاہے لہٰذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حملے کو ترجیح دی۔
(3) لشکر اُسامہ روانہ نہ کرنے کی صورت میں باغی ومرتد قبائل اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے کہ مسلمان اپنے نبی کے وصال کے بعد بہت کمزور ہوگئے ہیں اس لشکر کو دیکھ کر ان کی یہ خوش فہمی پانی ہوگئی۔
(4) لشکر اُسامہ تقریباً ۷۰۰صحابۂ کرام پر مشتمل کافی بڑا لشکر تھا اسے دیکھ کر مرتد قبائل پر یہ اثر ہواکہ وہ مسلمانوں کی افرادی قوت سے مرعوب ہوگئے۔
(5) مختلف فتنوں کے پیداہونے سے مسلمانوں کے جو حوصلے پست ہوگئے تھے اس لشکر کی فتح ونصرت اور مال غنیمت کے ساتھ واپسی سے وہی حوصلے بہت بلند ہو گئے اور اسلامی قوت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
لشکر اسامہ کی جنگ کاحال
حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ملک شام کا عزم کیا مئی کا مہینہ اور سخت گرمی کا موسم تھا، تپتے صحراؤں اور جنگلوں میں سے گزرتا ہوا یہ لشکر بیس (۲۰)دن میںبلقا کے مقام پر پہنچا۔یہ وہی مقام تھاجہاں جنگ موتہ ہوئی تھی اورحضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے والد حضرت سیدنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شہید ہوئے تھے اور حضرت سیدنا جعفر بن ابی طالب اور حضرت سیدنا عبد اللہبن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے یہیں جام شہادت نوش فرمایا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسی جگہ پڑاؤ کیا اورفوج کو مختلف دستوں میں تقسیم کرکے آبل اور قضاعہ کے قبائل پرحملہ کرنے کا حکم دیا۔یہ حملے نہایت کامیاب رہےاور بے شمار کافررومیوں کو مسلمانوں نے قتل کیا اور بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان حملوں میں بہترین جنگی مہارت کا ثبوت دیا اور بہت آسانی سے شہدائے موتہ کا انتقام لینے میں کامیاب ہوگئے ۔
لشکراسامہ کی واپسی
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین اور حضرت سیدنا