Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
352 - 691
لوگوں کالشکر اُسامہ بھیجنے پر اعتراض
بیعت خلافت کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لشکر اسامہ کودوبارہ روانہ کرنے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیاان کے اعتراض میں دو(۲)  باتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں:
(1) حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے خطبے کے بعد خلافت کے معاملے میں کوئی اختلاف نہ رہا تھا۔ لہٰذاکسی دور دراز غیر مسلم ملک کے ساتھ جنگی کاروائی سے فی الحال بچنا چاہیے۔
(2)عرب میں غیر متوقع طور پر بغاوت وارتداد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، بہتر یہ ہے کہ خارجی امور کے بجائے ان داخلی معاملات سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں، کیونکہ اس نازک موقع پر شام کی طرف لشکر بھیجنے سے فوج کی طاقت مختلف محاذوںمیں بٹ جائے گی، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اس معاملے کو کچھ عرصہ تک مؤخر کردیاجائے۔ لیکن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی رائے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور لشکر اُسامہ بن زید کو روانہ کر دیا۔
لشکر اُسامہ کی روانگی میں حکمتیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بظاہر ایسا محسوس ہوتاہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے مشوروں کو قبول نہ کیاحالانکہ واقعات وحالات کے تناظر میں ان کی رائے بالکل درست تھی۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لشکر اسامہ کو روانہ کرنے میں کئی حکمتیں پوشیدہ تھیں جو دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے پیش نظر نہ تھیں مثلاًً:
 (1)سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جس لشکر کو تیار فرماکرروانہ کردیا تھا اسے ویسے ہی دوبارہ روانہ کردیاجائے کہ کہیں حکمِ رسول کی حکم عدولی نہ ہو ۔
(2) اگرلشکر اسامہ کو روانہ نہ کیا جاتا تویقیناً رومی حملہ کردیتے اور مسلمانوں کو دفاع کرنا پڑتا اور چونکہ دفاع ہمیشہ