Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
351 - 691
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  حضرت سیدتنا ام ایمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: ’’اُمُّ اَیْمَن اُمِّیْ بَعْدَ اُمِّی‘‘یعنی اُم ایمن میری ماں کے بعد میری ماں ہیں۔  حضرت سیدنا زبیر بن بکار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سیدہ خاتون جنت کی وفات سے ایک ماہ قبل حضرت سیدتنااُمّ ایمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی وفات فرماگئیں تھیں۔
(تاریخ الاسلام للذھبی، الجزء الثالث، ج۳،ص۴۸تا۴۹، سیرت سید الانبیاء، ص۶۰۷، مدارج النبوت، ج۲، ص۴۹۹)
سیدنا اسامہ بن زیدکو امیر کیوںمقرر کیا گیا؟
رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب لشکر کا امیر مقرر فرمایا اس وقت ان کی عمر صرف اٹھارہ ۱۸سال تھی ،اس وقت کئی اکابرصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بھی موجود تھے لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو لشکر کاامیر مقرر کرنے میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ تھیں۔مثلاً:
(1)نوجوانوں میں خود اعتمادی اور ذمہ داری کا جذبہ پیدا ہو اور ان میں یہ احساس بھی کروٹ لے کہ وہ فوج کے بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیںجیسا کہ سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔
(2)ان کے والد حضرت سیدنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رومیوں کے ہاتھوں جنگ موتہ میں شہید ہوگئے تھے ان کو امیر اس لیے مقرر کیا گیا تاکہ خوب جذبہ جہاد سے لڑیں اور خصوصاً اپنے والد کا کفار سے بدلہ لے سکیں ۔
(3)ان کی بہادری اور شجاعت سے متاثر ہوکر ان کے دوسرے ہم عمر نوجوان بھی اپنے اندرجذبہ جہاد بیدار کریں اور جنگ میں اپنے جوہر دکھائیں۔
(4)جنگ بے پناہ محنت اور مشقت کا کام ہے،جنگ میں جہاں جنگی چالوں کی اہمیت ہے وہیں اس کے لیے عزم جواں کی بھی ضرورت ہے آپ کو امیر اس لیے مقرر کیا گیا تاکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھ کر نوجوان اپنے اندر اس مشقت کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔