Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
350 - 691
سیدنا اُسامہ بن زید پرشفقت ورافت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پیارے صحابی ہیں جو زمانہ طفولیت یعنی بچپن سے لے کر جوانی تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ساتھ رہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خصوصی محبتیں اور شفقتیں آپ کو ملتی رہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر اگلے سال جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عمرے کے لیے تشریف لے گئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے اور اسی حالت میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بچپن ہی سے دلیر اور جرأت مند تھے ۔ جنگ اُحد کے زمانے میں وہ بچے تھے اور انہیں جہاد میں شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن اسلامی لشکر جب مدینے سے باہر نکلاتو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جذبہ جہاد سے مغلوب ہو کر اس لشکر میں شامل ہوگئے مگر آپ کو بہت چھوٹا ہونے کے سبب الگ کردیا گیا ، البتہ جنگ حنین میں خوب بہادری وشجاعت سے لڑے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ سعادت حاصل تھی کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ پر خصوصی شفقت فرماتے تھے۔
آپ کی والدہ حضرت سیدتنا اُمّ ایمن 
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سیدتنا اُمّ اَیمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاتھا۔دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے نکاح کے وقت ان کو آزاد فرمادیا تھا ان کا نکاح پہلے حضرت سیدنا عبید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوا جن سے حضرت سیدنا ایمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پیدا ہوئے اور انہی کی نسبت سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کیکنیت اُمّ اَیمن قرار پائی ورنہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا اصل نام ’’برکت‘‘ تھا ۔ان کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاححضرت سیدنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہواجن سے حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپیدا ہوئے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی