Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
349 - 691
لشکر اُسامہ کی روانگی
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا: ’’وَالَّذِيْ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ لَولَا أَنَّ أَبَا بَكْر اِسْتَخْلَفَ مَا عُبِدَ اللہُیعنی قسم ہے اس خدا کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اگرحضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفۂ رسول نہ بنتے تو کبھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت نہ ہوتی۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کئی بار یہی الفاظ دہرائے۔ کسی نے کہا: ’’اے ابوہریرہ !بس کرو۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے وصال ظاہری سے پہلے حضرت اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو سات سو مجاہدین کے ساتھ شام کی جانب روانہ فرمایا، ابھی وہ مدینے کےقرب وجوار میں ہی تھے کہ حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا وصال ہوگیا اور مدینہ کے آس پاس والے قبائل مرتد ہونے لگے، اس وقت صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے گرد جمع ہوکرعرض گزار ہوئے:’’آپ لشکر اُسامہ کوہرگزروانہ نہ فرمائیں کیونکہ عرب قبائل مرتد ہورہے ہیں۔‘‘یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا:’’وَاللہِ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ السِّبَاعَ تَجُرُّ بِرِجْلِيْ اِنْ لَمْ اَرُدَّهُ مَا رَدَدْتُّهُ عَنْ وَجْهٍ وَجَّهَهُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمیعنی اگر مجھے علم ہو کہ درندے مجھے پائوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے تب بھی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکابھیجا ہوا لشکر نہیں روکوں گا۔‘‘ س کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت اُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو روانہ کردیا تو وہ جہاں بھی جاتے انہیں دیکھ کر مرتد ہونے والے یا ارتداد کاارادہ رکھنے والے قبائل کہتے:’’اگر ان کے پاس قوت نہ ہوتی تو یہ کبھی اپنا مرکز یعنی مدینہ چھوڑ کر باہر نہ نکلتے، ضرور ان کا بڑا لشکر مرکز میں بھی ہوگا، لہٰذا اس لشکر کو رومیوں کے پاس جانے دیا جائے، اگر یہ ان پر غالب آگئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مل جائیں گے۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد سے لشکر اسامہ لشکر روم پر غالب رہا اور صحیح سالم اور مال غنیمت سمیت لوٹا، جسےدیکھ کر کئی مرتدقبائل راہ راست پر آگئے۔ 
(کنز العمال ،کتاب الخلافۃ والامارۃ ،البا ب الاول فی خلافۃ الخلفاء، الحدیث:۱۴۰۶۲،ج۳،الجزء:۵، ص۶۴۱، الریاض النضرۃ ، ج۱، ص۱۴۹)