لشکر اسامہ کونصیحت آموز خطبہ
امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لشکر اسامہ کی روانگی کے موقع پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا: ’’اے مجاہدین اسلام! تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے ہو اور دور دراز مقام کی طرف جارہے ہو۔ اس موقعے پر میں تمہیں دس نصیحتیں کرتاہوں، غور سے سنو اور انہیں یاد رکھو۔ ان پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔(1) خیانت نہ کرنا۔(2)بد عہدی نہ کرنا۔(3)چوری نہ کرنا۔ (4) مقتولوں کے اعضاء نہ کاٹنا، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا۔(5) کھجور کے درخت نہ کاٹنا، نہ جلانا، کوئی بھی پھل دار درخت نہ کاٹنا۔ (6)بھیڑ ، بکری ،گائے یا اونٹ کو کھانے کے سوا ذبح نہ کرنا۔ (7)تمہارا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوگا جو اپنے آپ کو عبادت کے لیے وقف کیے گرجوں اور عبادت خانوں میں بیٹھے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کررہے ہیں، انہیں اپنے حال پر چھوڑ دینا۔ ان سے کوئی تعرض نہ کرنا۔ (8)تمہیں ایسے لوگوں کے پاس جانے کا موقع ملے گا جو تمہارے لیے برتنوں میں ڈال کر مختلف قسم کے کھانے پیش کریں گے۔ بسم اللہپڑھ کر کھانا شروع کرنا۔ (9)تم ایسے لوگوں سے ملو گے جنہوں نے سر کا درمیانی حصہ تو منڈوا دیا ہوگا۔ لیکن سر کے چاروں طرف بڑی بڑی لٹیں لٹکتی ہوں گی، انہیں تلوار سے قتل کردینا۔ (10)اپنی حفاظت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے کرنا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں شکست اور وبا سے محفوظ رکھے۔‘‘ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خصو صاً امیر لشکر حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمہیں جو امور سرانجام دینے کی ہدایت فرمائی تھی وہ پوری توجہ اور محنت سے سرانجام دینا۔ جنگ کا آغاز قضاعہ سے کرنا۔ بعد ازاں آبل کا قصد کرنا۔ہر صورت میں نبی صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے احکام بجا لانا، اس میں قطعاً کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ (الکامل فی التاریخ، ذکر انفاذ جیش اسامۃ، ج۲، ص۲۰۰)