(۱۱)صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شدت مرض کے بارے میں سنا تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق، حضرت سیدنا عمر فاروق، حضرت سیدنا عثمان غنی ، حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور دیگر چند صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مدینہ منورہ واپس لوٹ آئے۔
(۱۲)۱۲ ربیع الاول پیر کے دن حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مہم پر روانگی کی تیاری فرمارہے تھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کی خبر پہنچی اس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے لشکر سمیت مدینہ طیبہ واپس آگئے۔
(۱۳)جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ رسول منتخب ہوئے تو امور خلافت کے بارے میں پہلا حکم آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لشکر اسامہ کی روانگی کا دیا کیوں کہ نبی اکرم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنی ظاہری حیات طیبہ میں اس کا بڑا اہتمام تھا۔
(۱۴) حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہیکم ربیع الثانی کو جرف کے مقام سے اپنے لشکر کو لے کرروانہ ہوئے ۔
(۱۵)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لشکر میں تین ہزار افراد تھے جن میں سے سات سو قریشی اور ایک ہزار گھوڑے بھی تھے۔
(۱۶) لشکر اُبْنٰی یا آبلکے مقام پر پہنچا اورمشرکین سے زبردست جنگ کی اور ان کے سرداروں کو موت کے گھاٹ اتارا۔
(۱۷) عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا، ان کے مال واسباب کو غنیمت بنایا۔
(۱۸)اہم بات یہ ہے کہ اس مہم میں مسلمانوں کا کوئی بھی جانی نقصان نہ ہوا، سارا لشکر صحیح سلامت مال غنیمت سمیت واپس مدینہ منورہ آگیا۔
(۱۹) اس جنگ کے وقت حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بالکل جوان تھے اور آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ (سیرت سید الانبیاء، ص۲۲۶)