لشکر اُسامہ کومہم پربھیج دو
حضرت سیدنا عروہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے مرض الموت میں ارشاد فرمایا:’’ اَنْفِذُوْا جَیْشَ اُسَامَۃلشکر اُسامہ کو مہم پر بھیج دو۔‘‘ لہٰذا لشکر اُسامہ چل پڑا حتی کہ جرف کے مقام پر پہنچا۔ حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ فاطمہ بنت قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس پیغام بھیجا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جلدی مت کریں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طبیعت ناساز ہے۔چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا لشکرجرف کے مقام پر ہی ٹھہرا رہا اوروہاں سے آگے کی طرف نہ بڑھا۔حتی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا انتقال ہوگیا۔ تب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں آئے اور عرض کی : ’’رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے روانہ فرمایاتھا جبکہ میں یہ حالت غیر ملاحظہ کررہاہوں مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں عرب کفر اختیار نہ کرلیں۔ اگر انہوں نے کفر اختیار کیا تو میں سب سے پہلے ان سے لڑنے والا ہوں گا۔اگر عرب کافر نہ بنے تو اُن کا راستہ چھوڑ دوں گا۔ میری معیت میں جلیل القدر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اورنیک افراد ہیں۔‘‘ بعد ازاں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خطبہ ارشاد فرمایا: ’’وَاللہِ لَأَنْ تَخْطَفَنِيَ الطَّيْرُ أَحَبُّ اِلَيَّ مِنْ أَنْ أَ بْدَأَ بِشَيْءٍ قَبْلَ أَمْرِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَ سَلَّم خدا کی قسم! پرندوں کا مجھے نوچ لینا میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کی تعمیل میں کسی کام کا آغاز کروں۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعدحضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو روانہ فرما دیا۔
(تاریخ مدینۃ دمشق، ج۸، ص۶۲، الطبقات الکبری لابن سعد، الطبقۃ الثانیۃ من المھاجرین،اسامۃ الحب بن زبید، ج۴، ص۵۰)