Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
344 - 691
 اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی قیادت میں یہ لشکر تیار کیاگیا۔
(۲)دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ظاہری حیات مبارکہ کا یہ سب سے آخری سریہ تھا۔
(۳) ۲۶ صفر المظفرہفتہ کے روزنبیٔ کریم، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رومیوں کے مقابلہ کے لیے جنگ کی تیاری کا حکم فرمایا، رومی اس وقت ملک شام پر قابض تھے۔ حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حکم دیا کہ کل یعنی ۲۷ صفر المظفربروز اتوار اس مہم پر روانہ ہوجائیں۔
(۴) ۳۰ صفر المظفر بدھ کی رات کو حضور نبیٔ اکرم ،نور مجسم ،شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی علالت کا آغاز ہوا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو درد سر اور بخار لاحق ہوا۔
(۵)جمعرات یکم ربیع الاول کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دست اقدس سے ان کے لیے جھنڈا تیار فرمایا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مہاجرین وانصار کی ایک جماعت کے ہمراہ روانہ فرمایا۔
(۶) مہاجرین میں سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق، حضرت سیدنا عمر فاروق، حضرت سیدنا عثمان بن عفان، حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح، حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص ، حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم وغیرہ شامل تھے۔
(۷) انصار میں سے حضرت سیدنا قتادہ بن نعمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیدنا سلمہ بن اسلم بن حریش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ تھے۔
(۸) اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: لشکر اسامہ کی روانگی کا بندوبست کرو۔پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود انہیں رخصت فرمایا۔
(۹) حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مقام جرف میں پڑاؤ ڈالا تاکہ لشکر وہاں اکٹھا ہوسکے۔
(۱۰) جرف غابہ سے پیچھے ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے ایک فرسخ(تین میل)کے فاصلے پر احد پہاڑ کے پیچھے ہے۔