الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسدِ اطہر کو مکہ میں دفن کیا جائے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ولادت باسعادت وہیں ہوئی۔بعض فرمانے لگے کہ مسجد نبوی میں۔ بعض فرمانے لگے نہیں بلکہ بقیع شریف میں۔ بعض کا نقطہ نظر یہ تھا کہ بیت المقدس میں دفن کریں کیونکہ یہ انبیاء کرام کا مدفن ہے۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے خداداد علم سے اس مسئلہ کی عقدہ کشائی کی۔ علامہ ابن زنجویہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ’’هٰذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا الصِّدِّيْقُ مِنْ بَيْنِ الْمُهَاجِرِيْنَ وَ الْاَ نْصَارِ وَ رَجَعُوْا َََََ لِيْهِ فِيْهَا یہ واحد حدیث پاک ہے جس میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمہاجرین وانصار کے سامنے متفرد ہوئے اورتمام صحابۂ کرام نے اسے قبول کیا۔‘‘ (تاریخ الخلفاء، ص۵۶)
پہلےخلیفہ کاپہلا جنگی حکم
خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری کے بعد جو بغاوت پھوٹ پڑی تھی اور اس کے جو متوقع نتائج سامنے آنے والے تھے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس سے بخوبی آگاہ تھے، اب سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ مختلف قسم کے پیداہونے والے فتنوں کو پہلے ختم کرنے کی کوشش کی جائے یا اسلام وعیسائیت کے درمیان اختلافات اوریہودی فتنہ انگیزیوں کے سبب پیداہونے والے خطرات اور اسلامی سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی معیت میں لشکر روانہ فرمایا تھا اسے دوبارہ بھیج دیاجائے ۔ واقعی یہ ایک نہایت ہی نازک وقت تھا کہ ہر طرف سروں پرخطرات منڈلارہے تھے ایسے وقت میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بہت غور وغوض کےبعد لشکر اُسامہ بن زید کی روانگی کا حکم جاری فرمایا۔ یہ اسلامی سلطنت کے پہلے خلیفہ کا پہلا جنگی حکم تھا۔
لشکراسامہ بن زید کااجمالی خاکہ
(۱)’’اُبْنٰی‘‘جو ’’بُلْقَآء‘‘کے قریب شَرَاہ کے علاقہ اور ملک شام میں واقع ہے میں مقیم لوگوں کی جانب حضرت سیدنا