بعدِ خلافت حیات صدیق اکبر
سب سے پہلا اور اہم مسئلہ
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری کے بعد نفاق نے اپنی گردن اٹھائی۔ بعض قبائل عرب مرتد ہوگئے، انصار نے اپنے مراکز کو چھوڑ دیا، اگر مضبوط پہاڑ میرے والد گرامی پر گر پڑتے تو آپ انہیں ریزریزہ کردیتے۔ اگر وہ کسی نقطے پر اختلاف کرتے تو میرے والد گرامی اپنی فیصلہ شناس نگاہ کی بدولت اس کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ فرمادیتے۔ مثلاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسد اطہر کے دفنانے کا مسئلہ درپیش ہوا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کہنے لگے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کہاں دفنایا جائے؟ ہم میں سے کسی کے پاس اس کا حل موجود نہ تھا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’مَا مِنْ نَبِيٍّ يُقْبَضُ إِلَّا دُفِنَ تَحْتَ مَضْجَعِهِ الَّذِيْ مَاتَ فِيْهِمیں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا کہ جو بھی نبی وفات پا جاتا ہے اسے اس جگہ دفنایا جاتاہے جہاں اس نے وفات پائی ہو۔‘‘ اسی طرح صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی میراث کے متعلق اختلاف کیا انہوں نے کسی کے پاس بھی اس کاحل نہ پایا۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’میں نے حضور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا تھا کہ ہم معشر انبیاء ہیں ہم کسی کو وارث نہیں بناتے۔ جو پیچھے چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔‘‘ (کنز العمال، فضل الصدیق،الحدیث: ۳۵۵۹۵،ج۶، الجزء:۱۲، ص ۲۲۰، تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص ۳۱۱)
متفردہونے کے باوجود قبولیت
بعض علماءکرام فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مابین سب سے پہلے یہ اختلاف ہوا کہ شَفِیْعُ