Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
340 - 691
 اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ایک انگوٹھی عطافرمائی اور فرمایا: ’’اے ابوبکر!جائو اوراس پر لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ لکھواکر لے آئو۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مزاج عشق نےپسند نہ کیا کہ ذکر خدا تو ہو لیکن ذکر مصطفےٰ نہ ہو۔لہٰذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کاتب کو کہا:’’اس انگوٹھی پر لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہلکھ دو۔‘‘جب وہ انگوٹھی تیار ہوگئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہ انگوٹھی واپس لے کر آئے اور بارگاہ رسالت میں پیش کردی۔ جب پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دیکھا تو اس پر یہ عبارت نقش تھی: ’’لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اَبُوْ بَکْرالصِدِّیْق۔‘‘یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّ کےرسول ہیں اور ابو بکر صدیق ہیں۔‘‘حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے انگوٹھی پرنقش دیکھ کر استفسار فرمایا:’’ اے ابو بکر! میں نے تو کہا تھا کہ اس پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ لکھواؤ لیکن تم نے اتنا زیادہ کیوں لکھوایا۔‘‘عاشق اکبر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں نے پسند نہ کیا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نا م کے ساتھ آپ کا نا م نہ لکھوایا جائے اس لیے میں نے اس پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ لکھوادیا البتہ یہ عبارت ’’ابو بکر الصدیق‘‘ میں نے نہیں لکھوائی ۔‘‘یہ عرض کرنے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خود بھی سوچ میں پڑگئے کہ میرا نا م انگوٹھی پر کیسے آگیا؟ اسی وقت حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوگئے اور عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابوبکر کا نام میں نےلکھا ہے، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پسند نہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نا م مبارک سے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا نا م جدا کیا جائے۔‘‘    (تفسیرکبیر، الفاتحۃ،الباب الحادی عشر،  ج۱، ص۱۵۳)
خدا کا ذکر کرے ذکر مصطفےٰ نہ کرے
ہمارے منہ میں ہو ایسی زبان خدا نہ کرے