Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
339 - 691
البتہ وہ مہریں انگوٹھی کی طرح ہوتی تھیں کہ حاکم اس انگوٹھی کو اپنے ہاتھ میں پہنے رکھتا اور بوقت ضرورت اسے استعمال میں لاتا اس وقت کے سلاطین بغیر مہر والے خطوط یا کسی بھی قسم کےکوائف (Documents)قبول نہیں کرتے تھے۔اسی وجہ سے جب سیِّد عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بادشاہوں کے نام دعوت اسلام کے خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تومختلف صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مشورہ دیا کہ :’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ بھی اپنی ایک مُہر والی انگوٹھی بنوالیں۔‘‘توآپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پرایک عبارت بھی کندہ کروائی ۔چنانچہ،
انگوٹھی پر کندہ عبارت
نبیٔ کریم،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے لیے انگوٹھی بنوانے کا حکم دیا اس پر تین سطروں میں ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ‘‘ اس طرح نقش کرایا کہ لفظ ’’اللہ‘‘ اوپر کی سطر میں ’’رَسُوْل‘‘ درمیان کی سطر میں اور ’’مُحَمَّد‘‘ نیچے والی سطر میں تھا۔
انگوٹھی تیار کرنے والے صحابی
اس انگوٹھی سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعجمی بادشاہوں کی جانب اپنے خطوط پر مہر لگاتے تھے، اس کو حضرت سیدنا یَعْلٰی بِنْ اُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے تیار کیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یَعْلٰی بِنْ مُنْیَہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اُمَیَّہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے والد کا نام اور مُنْیَہ آپ کی والدہ کا نام تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ زرگر یعنی سُنار تھے۔  (سیرت سید الانبیاء، ص۳۸۵)
نام صدیق نا م حبیب سے جدانہ ہو 
ایک مرتبہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ