کردیا جائے کہ یہ وظیفہ میرے گھر والوں کو کفایت کرے گا؟‘‘ اتنے میں حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم وہاں تشریف لے آئے۔ انہوں نے دونوں کی گفتگو سن کر فرمایا: ’’حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وظیفہ میں پورا کروں گا۔‘‘ حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’واقعی ؟۔‘‘حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :’’جی ہاں۔‘‘ حضرت سیدنا ا بوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’کیا معلوم دوسرے مہاجرین اس پر راضی ہوتے ہیں یا نہیں ؟‘‘بہر حال حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس مقررہ وظیفہ سے متعلق مسلمانوں کی رائے معلوم کرنے کے لیے مسجد میں آئے، منبر پر جلوہ افروز ہوکر فرمایا: ’’اے لوگو! میرا سابقہ وظیفہ اڑھائی سو دینار اور بکری کے کچھ اعضاء تھے، اب عمراور علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا میرا نیا وظیفہ تین سو دینار اور ایک پوری بکری مقرر کررہے ہیں، کیا آپ میں سے کسی کو اعتراض ہے؟‘‘ سب نے کہا: ’’ہمیں کوئی اعتراض نہیں بلکہ یہ وظیفہ صحیح ہے۔‘‘ (الریاض النضرۃ ،ج۱،ص۲۵۵)
میرا مال مسلمانوں کے کام آجاتاہے
اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خلیفہ بننے کے بعدیہ ارشاد فرمایا: ’’میری قوم جانتی ہے کہ میرا کاروبار اتنا وسیع تھا کہ اس سے میرے گھروالوں کا اچھا گزر بسر ہوجاتا تھا لیکن (میں نے اپنا سارا مال بیت المال میں جمع کروادیا ہے اور) اب میں اہل اسلام کے کاموں میں مشغول ہو گیا ہوں اب میرے (بیت المال میں جمع کروائے گئے)مال سے میری آل بھی کھاتی ہے اور مسلمانوں کے کام بھی آ جاتاہے۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب البیوع،کسب الرجل وعملہ بیدہ،الحدیث: ۲۰۷۰، ج۲، ص۱۱)
صدیق اکبر اور مُہر رسول والی انگوٹھی
موجودہ دور کی طرح پہلے بھی بادشاہوں، وزیروں یا حکمرانوں کے پاس مختلف معاملات کے لیے مہریں ہوتی تھیں