واسطے ایک اوسط درجے کے مُہاجِر کی خُوراک کا اندازہ کر کے روزانہ کی خُوراک اورموسم گرما و سرما کا لباس مہیّاکیجئے لیکن اس طرح کہ جب پھٹ جائے تو واپس لے کر نیا اس کے عوض دے دیا جائے۔ ‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےان کے لیے آدھی بکری کا گوشت(سر، پہلو اور پاؤں)، لباس اور روٹی مقرر کر دی۔ (تاریخ الخلفاء، ص۲۱۴)
آپ کے نئے وظیفے کی تقرری
حضرت سیدنا ابراہیم بن محمد بن معبد بن عباس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوخلیفہ بننے کے بعد سالانہ ڈھائی سو دینار،روزانہ بکری کے گوشت میں سے اس کا سر، پہلو اور پائوں دیا جاتا تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ پہلے خلیفہ ہیں جن کے لیے ان کی رعایا نے ہی وظیفہ مقرر کیا مگر یہ وظیفہ آپ کے اہل وعیال کے لیے ناکافی تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاپنا سارا مال بھی بیت المال میں جمع کروادیا تھا۔ ایک مرتبہ آپ تجارت کے لیے مدینہ منورہ کے بازار کی طر ف تشریف لےگئے۔ اتنے میں حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآئے تو دیکھا کہ مسجد میں کچھ عورتیں بیٹھی ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا:’’ تمہیں کیا کام ہے؟ ‘‘وہ کہنے لگیں: ’’ہم امیر المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ایک جھگڑے کا فیصلہ کروانے آئی ہیں۔‘‘ تو حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو تلاش کرنے نکل پڑے، ڈھونڈتے ڈھونڈتے مدینے کے اس بازار میں جا پہنچے جہاں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبغر ض تجارت تشریف لائے ہوئے تھے۔حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان کا ہاتھ پکڑ ااور عرض کیاکہ مسجد چلئے کہ کچھ عورتیں آپ کا انتظار کررہی ہیں۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ مجھے اَمارت کی کوئی حاجت نہیں، میرےموجودہ وظیفے میں گزربسربہت مشکل ہے۔‘‘حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:’’ہم اس میں اضافہ کردیں گے۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:’’کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ تین سو دینار سالانہ اور ایک سالم بکری میرا وظیفہ مقرر