بیت المال سے وظیفے کی تقرری
حضرت سیدنا حمید بن حلال رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمنصب خلافت پرفائز ہوئے توصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے بحیثیت خلیفۂ رسول وظیفہ مقرر کرنے پر مشورہ کیا ۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو پہننے کے لیے دو چادریں ملیں گی،جب وہ پرانی ہوجائیں توانہیں نئی چادریں دے دی جائیں۔ سواری کے لیے ایک جانور کی بھی ترکیب بنائیںجس پر وہ سفروغیرہ کریں، اور خلیفہ بننے سے قبل جیسا خرچہ وہ اپنے گھر والوں کودیتے تھے، اتنا خرچہ بھی دیا جائے گا۔ (الطبقات الکبری لابن سعد ، طبقات البدریین من المھاجرین،ذکر بیعۃ ابی بکر ،ج۳، ص۱۳۷)
صدیق اکبر کایومیہ وظیفہ
حضرت سیدناابن سعدرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیدناعطا بن سائب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیعت خِلافت کے دوسرے روز کچھ چادریں لے کر بازارجا رہے تھے، حضرت سیدنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دریافت کیا کہ’’ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکہاں تشریف لے جارہے ہیں؟‘‘ فرمایا:’’ بغرضِ تجارت بازار جا رہا ہوں۔‘‘حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’ اب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہیہ کام چھوڑ دیجئے!اب آپ لوگوں کے خلیفہ(امیر)بن چکے ہیں۔‘‘یہ سُن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :’’ اگر میں یہ کام چھوڑ دُوں تو پھر میرے اہل و عِیال کہاں سے کھائیں گے؟‘‘حضرت سیدناعمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:’’آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہواپس چلئے،اب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا یہ کام حضرت ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکریں گے۔‘‘پھر یہ دونوں حضرات حضرت سیدنا ابوعُبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس تشریف لائے اور ان سے حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’ آپ حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اوران کے اہل و عیال کے