Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
335 - 691
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو وصیت کی صورت میں خلیفہ مقرر کردیا تھا، اور حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وفات کے وقت انتخاب خلیفہ کے لیے صحابۂ کرام پر مشتمل ایک مجلس قائم کردی تھی۔ لیکن اس کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی شہادت کا واقعہ پیش آیا اور اس کے نتیجے میں حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  کی خلافت کا قیام عمل میں آیااور اس کے بعد جب خلافت بنوامیہ کا دور آیا تو انتخابات کا طریقہ بالکل بدل گیا اور باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتا مسند خلافت پر متمکن ہونے لگا اس وقت ان کے نزدیک حالات کا یہی تقاضا تھا۔
بعدِبیعت ابتدائی معاملات
صدیق اکبر کی رہائش
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا قیام مدینے کے آخری سرے کی آبادی میں تھا، اس آبادی کا نام ’’سُنْح‘‘تھا ۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کامکان نہایت ہی سادہ تھاجسے دیکھ کر ہر شخص آپ کی سادہ زندگی کا فوراً ہی اندازہ لگا لیتا تھا۔جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ منتخب ہوگئے تب بھی اسی مکان میں آپ کا قیام رہا، اسے منہدم کرکے نہ تو اچھا مکان بنایا اور نہ ہی اس کی تجدید کی، خلیفہ منتخب ہونے کے بعد چھ مہینے تک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روزانہ اس مکان سے مسجد نبوی میں آتے اور خلافت کے امور نمٹاتے رہے۔ دراصل اس وقت مسجد نبوی ہی کو قصر خلافت یا دفتر خلافت کی حیثیت حاصل تھی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ایک چھوٹا سا مکان مدینے کے اندرونی حصے میں بھی تھا ،مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے تشریف لائے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسی میں رہائش اختیار فرمائی، اس مکان میں بھی آپ نے کوئی تبدیلی نہیں کی وہ بھی اسی پہلی حالت پر رہاجس حالت میں ہجرت کے وقت تھا۔