Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
334 - 691
 یعنی عجمی تاثر پیدا ہوگیا پھر ان کی ذہنی تبدیلی سے خلافت کا تصور بھی پہلے جیسا نہ رہا۔
انتخاب خلیفہ میں اہل مدینہ کااجتہاد
دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی حیات ظاہری میں کسی شخص کو نامزد (Nominate)کرکے خلافت کی وصیت نہیں فرمائی، اگرچہ خلافت سیدنا صدیق اکبرکو واضح اشاروں میں بیان فرمایا۔اسی طرح یہ بھی نہ بیان فرمایا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کس طریقے سے مسلمان اپنا سربراہ منتخب کریں، اس سربراہ کو کس لقب سے پکاریں ،اس کا طرز حکومت کیا ہو۔ جمہوری ہو، شخصی ہو، ملوکیت پر مبنی ہو یا قبائلی انداز کا ہو، اسے اپنا سربراہ بہ صورتِ بیعت مقررکریں یا کوئی اور طریقہ اختیار کریں۔ جب ہم سقیفہ بنی ساعدہ میں ہونے والے مسلمانوں کے اس اجتماعی مشورے ، مسئلہ خلافت کے بارے میں انصار اور مہاجرین کی منازعت پر غور وفکر کرتے ہیں اور اسے نظر وبصر کے زاویوں میں لاتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے انتخاب کے وقت مہاجرین وانصار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اجتہاد سے کام لیا، ورنہ قرآن و حدیث میں خلیفہ وغیرہ منتخب کرنے کے لیےبظاہر کوئی حکم نہیں تھا اوراہل مدینہ نے اکھٹے ہو کر انہیں نہایت دیانت داری کے ساتھ یہ ذمہ داری سونپ دی اور اسے خلیفہ کے لقب سے پکارنے لگے ۔ اگر اس وقت خلیفہ وقت کا انتخاب صرف اہل مدینہ پر موقوف نہ ہوتا بلکہ اس میں اردگرد کے قبائل بھی شامل ہوجاتے تو صورت حال یکسرمختلف ہوجاتی اور کبھی بھی وہ فوائد ظاہر نہ ہوتے جو اب ہوئے تھے۔
دیگر خلفاء کے انتخاب کا طریقہ کار
حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے انتخاب کا جو طریقہ بروئے کارلایا گیا وہ حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے انتخاب کے وقت اختیار نہیں کیا گیا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق