کوئی بات ہوتی تووہ اس پر عمل کرکے کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا سکتے تھے ۔یقینا انصار کے اس دائمی مثبت رویے سے کئی باتیں روزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہیں:
(۱)بیعت صدیق اکبر کے وقت مہاجرین وانصار میں جو اختلافات ہوئے ان تمام کا مقصد دنیوی امارت، اپنی ذات یا اپنے قبیلے کی برتری،اپنی عزت وعظمت اور مدمقابل کی ذلت وپستی جیسے امور کا حصول نہیں بلکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نیابت جیسی عظیم نعمت کا حصول تھا۔
(۲) انصار کے دلوں میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بات راسخ ہوگئی تھی کہ خلیفہ قریش سے ہی ہوگا اور عرب قریش کے علاوہ کسی دوسرے قبیلے کی خلافت پر اظہار رضامندی نہیں کریں گے۔
(۳) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی حیات طیبہ میں خلفاء کی جس ترتیب کی طرف اشارہ کیا تھا وہی برحق ہےاور اسی میں مسلمانوں کے دینی ودنیوی فوائد پوشیدہ ہیں۔
(۴) انصار نے معاملہ خلافت ہمیشہ کے لیے مہاجرین کو سپرد کرکے قیامت تک آنے والے لوگوں کو بتادیا کہ اسلام امن وشانتی، اپنےمفادات کو دوسرے مسلمانوں کے مفادات کے لیے قربان کرنے، ہر وہ کام جوفتنہ وفساد کا باعث بنے اسے ترک کرنے اور ذاتی ولسانی وقومی تعصب سے بالاتر ہوکر زندگی گزارنے کا درسِ لطیف دیتاہے ۔
اولین مسلمانوں کا طرز خلافت
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمانے میں مسلمان ان کی بیعت پر اس لیے قائم رہے کہ ان کا نقطۂ فکر خالص عربی رہن سہن کا مظہر تھا اور وہ اُس نقطۂ فکر سے بالکل جداگانہ نوعیت کا تھا جو بعد کے عہد میں مسلمانوں کے دلوں میں ابھر آیا تھا۔دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بعثت کے وقت مسلمان عربی رہن سہن پر قائم تھے اور یہی ان کے نزدیک صحیح تھا، اس کے بعد جب مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ پھیلا اور دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا تو عربوں کے ساتھ دیگر مفتوحہ ملکوں کے لوگوں سے اختلاط ہوگیا جس سے ان کے دلوں میں غیر عربی